کم مقدار میں غذا کھانے کا طریقه

 اپنی عقل و فہم سے خوراک کی مقدار مقرر کریں جتنی خوراک کھانی ہو اتنی ہی پلیٹ میں ڈال لیجئے۔ خوراک کو تبرک سمجھ کر کھانا چاہئے اور تبرک دوبارہ نہیں لیا جاتا۔ اس طرح خوراک کی مقدار مقرر ہو جائے گی۔ و کھانا کھاتے وقت دایاں گھٹنا کھڑا رکھیں اور بایاں بچھا لینا چاہئے کیونکہ یہ طریقہ معدہ کو دبا کر رکھتا ہے اور اس کو زیادہ کھانے کی کھلی چھٹی نہیں دیتا۔ غذا کو خوب خوب چبا چبا کر کھانے سے جلد ہی اطمینان ہو جائے گا۔ ایک شخص کو بہت زیادہ کھانے کی عادت تھی یہ مشورہ دینے پر کہ وہ لقمہ کو بتیس مرتبہ چبا کر کھائے ایسا کرنے پر محض دو روٹی سے اس کا پیٹ بھر گیا۔ ہیں کھانا کھاتے وقت فضول گپ شپ کرنا کسی طرح کا دماغی تصور کرنا وغیرہ سے حتی المقدور پر ہیز کرنا چاہئے۔ اس سے انجانے میں ہی خوراک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

 اکثر بچی ہوئی غذا کو نمٹانے کیلئے بھی زیادہ کھا لیا جاتا ہے یا تحفہ میں ملی ہوئی مٹھائیاں بھی ضرورت سے زیادہ کھالی جاتی ہیں ہذا ایسے موقع پر ان عادات کا خاص خیال رکھئے۔ بسا اوقات اچار لذیذ چٹنی وغیرہ کے استعمال سے بھی ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف روٹی سالن پر ہی اکتفا کرنا چاہئے۔

مہمان نوازی یا پیار کے بندھن میں زبردستی زیادہ کھانا حماقت ہے۔

آپ کم مقدار خوراک کھانے کا تجزیہ کر کے دیکھئے تین چار دنوں تک کم مقدار میں خوراک لینے کی وجہ سے بھوکے پیٹ ہونے کا احساس ہوگا لیکن ایک دو ہفتہ میں ہی پیٹ اسی مقدار کے موافق ہو جائیگا۔ اس کے بعد غور سے اپنے جسم اور اطوار کو دیکھئے آپ کم مقدار خوراک کھانے کا تجزیہ کر کے دیکھئے تین چار دنوں تک کم مقدار میں خوراک لینے کی وجہ سے بھوکے پیٹ ہونے کا احساس ہوگا لیکن ایک دو ہفتہ میں ہی پیٹ اسی مقدار کے موافق ہو جائیگا۔ اس کے بعد غور سے اپنے جسم اور اطوار کو دیکھئے آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ آپ کے جسم میں قوت احساس زیادہ ہوگی پھر تو آپ یقینا کم کھانے کی اہمیت کو سمجھ جائیں گے اور زندگی بھر اس پر عمل کرتے رہیں گے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page