کسی مقابلے یا تھکاوٹ کی صورت میں معمول سے زیادہ سوئیں

نیند کا نہ تو خیرہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر مکمل دسترس حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ بارہ گھنٹے سوکر بھی آٹھ گھنٹے سونے کی نسبت بہتر محسوس نہیں کریں گے۔ آٹھ یا نو گھنٹے سے زیادہ بستر پر دراز رہنے کی صور میں آپ کو توانائی ملنا بند ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کچھ روز وہ کم سوسکیں تو بعد میں 12 گھنٹے روزانہ کی نیند سے کسر پوری ہو جائے گی ۔ یہ بات صحیح نہیں۔ بلکہ عما یہ ہوتا ہے کہ وہ آٹھ گھنٹے کی نیند سے بھی بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ البتہ جسم میں ٹوٹ پھوٹ کی تعمیر کے لیے 9 گھنٹے سے زائد کی نیند اگر تھوڑی بہت مفید ہوسکتی ہے تو یہ فائدہ اپنے آپ کو اپنے طویل دورانے کے لیے بے کا ر کھنے سے ضائع ہو جائے گا اور جسم بے ڈھب اور ڈھینگا الگ ہو گا ۔

بستر میں طویل آرام کے جسم کی دلکشی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ تمام افعال سست پڑ جاتے ہیں۔ مثلا ہ گھنٹے سے زائد نیند کے بعد دل کی دھڑکن معمول سے کم ہو جاتی ہے۔ جس میں تخریب تعمیر کا عمل تیز بھی بہاری سے محروم ہو جاتا ہے ۔ اور ان خوان ، بھی مدھم پڑ جاتا ہے اور پیچھے ڈھیلے ہو جانے کی بنا پر جسم اپنی چاستی چالاکی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ اگر کوئی شخص تعین دین تک کچھ نہ کرے تو اپنی جسمانی طاقت کا 5 فیصد کھو دے گا۔ آدھے دن تک بستر پر پڑے رہنے سے آپ کے فعال ہونے میں معتد یہ کی رونما ہونے لگتی ہے اور ایک بات طے شدہ ہے کہ 9 گھنٹے سے زائد جتنا آپ بستر میں رہیں گے اتنے ہی کمزور پڑتے چلے جائیں گے۔

یہاں ایک اور تذکرہ باعث دلم پی ہوگا کہ بستر میں محض آرام سے لینے رہنا اتنا ہی سکون آور ہو سکتا ہے جتنا کہ سوئے رہنا۔ اس سے کھوئی ہوئی کافی طاقت بحال ہو جاتی ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ آٹھ گھنٹے سے زائد بستر پر لیٹ کر یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتے رہنا کہ آپ کو مزید نیند آئے گی یا نہیں۔ اس جھنجھٹ کو چھوڑ دیجئے اور بستر سے نکل آئیںاور اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ آئندہ جب بھی آپ کو نیند نہ آئے تو آرام سے بستر پر دراز ہو کر پرسکون ہونے کی کوشش کریں گے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page