پھلوں کے خواص( انگور )

انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں

ذکر کیا گیا ہے۔ یہ پھل بہت ہی لذیذ غذائیت سے بھر پور اور آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ انسانی صحت وقوت کی بحالی کیلئے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ انگور کے دانے بینوی یا گول اور کچھوں کی صورت میں ہوتے ہیں چونکہ اس کی بے شمار قسمیں متعارف ہو چکی ہیں۔ ان سب کا ذائقہ اور خوشبو بھی مختلف ہوتی ہے۔ اس کے دانے مٹر کے دانے سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں۔ انگور، زرد، کالے، سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتے ہیں۔ گلو کوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فورا بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے۔

غذائی صلاحیت اور وٹامنز کے انگور کے 100 گرام میں 92.00 فیصد رطوبت، پروٹین 0.1 فیصد، چکنائی 0.2 فیصد، معدنی اجزاء 7.00 فیصد کاربو ہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتینی اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے۔ کیلشیم 20 ملی گرام، فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن بی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس ، وٹامن اے  انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔

یہ پھل بہت ہی لذیذ غذائیت سے بھر پور اور آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ انسانی صحت وقوت کی بحالی کیلئے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ انگور کے دانے بینوی یا گول اور کچھوں کی صورت میں ہوتے ہیں چونکہ اس کی بے شمار قسمیں متعارف ہو چکی ہیں۔ ان سب کا ذائقہ اور خوشبو بھی مختلف ہوتی ہے۔ اس کے دانے مٹر کے دانے سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں۔ انگور، زرد، کالے، سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتے ہیں۔ گلو کوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فورا بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے۔

غذائی صلاحیت اور وٹامنز کے انگور کے 100 گرام میں 92.00 فیصد رطوبت، پروٹین 0.1 فیصد، چکنائی 0.2 فیصد، معدنی اجزاء 7.00 فیصد کاربو ہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتینی اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے۔ کیلشیم 20 ملی گرام، فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن بی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس  کاربوہائیدریس پائے جاتے ہیں جبلہ امور میں پائے جانے والے مع اور حیاس ابرا کیلشیم 20 ملی گرام ، فاسفورس 20 ملی گرام ، آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ 100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں۔

شفا بخش قوت اور طبی فوائد

عام کمزوری، بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کیلئے انگور بہت اچھی غذا ہے۔ نیز دل اور دوسرے اعضاء کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

 اور انگور میں موجود شکر ، خلوی مادہ اور نامیاتی تیزاب مل کر اسے جلاب آور بناتے ہیں۔ قبض دور کرنے کی یہ بہت اعلیٰ دوا ہے۔ ہیں قبض سے چھٹکارا پانے کیلئے روزانہ 350 گرام انگور کھانا ضروری ہیں۔ انگور اگر تازہ دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو کر رکھنے کے بعد استعمال کیا جاتا ہے۔ دل کی بیماری میں انگور کا میاب علاج ہے۔ یہ دل کو تقویت دیتا ہے۔ دل کے درد اور اختلاف قلب ( دل کی دھڑکن ) کا خاتمہ کرتا ہے۔ دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے۔

و دمہ کے مریض بھی انگور سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اولڈ فیلڈ انگور اور اس کے رس کو دمہ کا موثر علاج قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دمہ کے مریض کو انگوروں کے باغ میں رکھا جائے تو وہ بہت جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اید انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے یہ منظر د قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتا ہے چونکہ اس میں البیع من اور سوڈیم کلورائیڈ کی بہت قلیل مقدار ہوتی ہے اسلئے گردوں اور مثانے کی سوزش اور پتھری کا خاتمہ کرتا ہے۔ مسوڑھوں کی سوزش کا بہترین علاج انگور میں ہے کیونکہ انگوروں کا نامیاتی تیزاب تیز اور موثر قسم کا جراثیم کش ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سارے دانت ہل رہے ہوں ، مسوڑھوں سے پیپ آ رہی ہو تو پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ چند دن تک صرف انگوروں کو بطور اکلوتی غذا استعمال کرتے رہنے سے دانت مضبوط اور مسوڑھے سے پیپ آنا بند ہو جاتی ہے۔ اسلام انگور میں ایک اہم کمپاؤنڈ بھی دریافت ہوا ہے جس کو وٹامن پی کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایسا کیمائی جزو ہے جو یا بٹس سے پیدا شدہ خون کو بہنے سے روکتا ہے۔ جسم کے ورم اور نسوں کی سوجن کو کم کرتا ہے۔ اپنے تمام کیمیاوی اجزاء کی بناء پر انگور ایک ایسا جواب شمر ہے جونہایت بلم ہونے کے ساتھ خون کی مقدار بڑھاتا ہے۔

کچے انگور کا رس گلے کی خرابیوں میں مفید خیال کیا جاتا ہے۔ انگور کی پتیاں اسہال کو روکتی ہیں۔ انگوری سرکہ معدہ کی خرابیوں اور تولنج کی عمدہ دوا ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page