پھلوں کے خواص ( انار )

انار کا نام قرآن مجید میں تیسری بار سورہ رحمن کی آیت ۶۸، ۶۹ میں آیا ہے۔ انار کوعربی میں رمان اردو، پنجابی، فارسی میں انار گجراتی میں دادم، بنگالی میں داڑم اور انگریزی میں Pomegranate کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انار بہت ہی لذیذ اور بجدار پھل ہے۔ یہ مفرح، مسکن اور زود ہضم تاثیر رکھتا ہے۔ نامعلوم زبانوں سے اسے غذا اور دوا کی حیثیت سے بہت اونچا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ حجم میں سیب کے برابر ہوتا ہے۔ اس کی جلد ملائم لیکن سخت ہوتی ہے۔ اندر سے یہ متعدد خانوں میں بنا ہوا ہوتا ہے۔ ان خانوں میں شفاف اور خوش وضع دانے ہوتے ہیں۔ دانوں کا رنگ سفید یا سرخ ہوتا ہے جو خوش ذائقہ گودے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دانوں کے اندر بیج ہوتا ہے۔ گودا اس بیج کے گرد پایا جاتا ہے۔ دانوں کا ذائقہ نیم ترش ہوتا ہے۔ بیٹھے اور سرخ رنگ کے علاوہ ترش ذائقہ رکھنے والی اقسام بھی کاشت کی جاتی ہے۔

(غذائی صلاحیت اور وٹامنز ) مس اسلام انارا کے 100 گرام قابل خوردنی حصے میں 78 فیصد رطوبت، 1.6 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی، 0.7 فیصد معدنی اجزاء، 5.1 فیصد ریشے، 14.5 فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ جبکہ انار کے معدنی اور کیمیائی اجزاء میں 10 ملی گرام کیلشیم ،70 ملی گرام ، فاسفورس، 0.3 ملی گرام آئرن ، 16 ملی گرام وٹامن سی اور کچھ وٹامن بی کمپلیکس ہوتے ہیں۔

انار کے شفا بخش طبی فوائد

انار جڑ سے لے کر پھل تک ہر حصے کے طبی فوائد مسلم ہیں۔ انار کا پھل دل و دماغ کو اس حد تک فرحت اور تازگی بخشتا ہے کہ ایک قول کے مطابق نفرت ، حسد کا مادہ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ انار کی جڑ کی چھال اُبال کر ٹی بی اور پرانے بخار کے مریضوں کو پلایا جائے تو وہ شفایاب ہو جاتے ہیں۔ ملیر یا بخار کے بعد ہونے والی کمزوری اس کے استعمال سے دور ہو جاتی ہے۔ انار کا چھلکا دودھ میں ابال کر پینے سے پرانی پیچش دور ہو جاتی ہے۔ غذا میں سے وٹامن اے کو جگر میں محفوظ کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ جسم میں قوت مدافعت بڑھا کر مختلف قسم کی انفیکشن دور کرتا ہے۔ خصوصاًاپ دق سے بچاتا ہے۔

قلت خون ، یرقان، بلڈ پریشر، بواسیر، ہڈیوں اور جوڑوں کے درد میں انار کے طبی فوائد تسلیم کئے گئے ہیں۔

نظام ہضم کی بے قاعد گیاں دور کر کے بھوک بڑھاتا ہے۔ غذا کو ہضم کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ بڑی آنت کی سوزش اور بلغم کا تدارک کرتا ہے، انتریوں کو تقویت دیتا ہے۔ صفراوی قے متلی اور صفرا کی کثرت سے ہونے والی سینے کی جلن کا خاتمہ کرتا ہے۔ گردے اور مثانے کی پتھریاں ختم کرتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی متعدد تکالیف سے محفوظ رکھتا ہے۔ انار کے خشک چھلکوں کا سفوف، کالی مرچ اور خوردنی نمک ملاکر بطور منجن استعمال کرتے رہنے سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ دانتوں میں چمک پیدا کرتا ہے۔

کچھ نسوانی امراض میں بھی انار کی جڑ کی چھال کا استعمال حتمی علاج ہے۔ انار کے پھول اسقاط حمل کو روکنے کیلئے بطور دوا تعمال کئے جاتے ہیں۔ انارکی چھال کا جوشاندہ پیٹ کے یوں کو مارتا ہے اسال یا خونی پچپن میں جتلا مریضوں کیئے 50 گرام انار کا جوس بہترین علاج ہے۔ اس سے کمزوری بھی دور ہوتی ہے۔

انار کے استعمال میں ایک احتیاط نار کا پھل کاٹنے کے فوراً بعد استعمال کرنا چاہئے وگرنہ اس کے بیج اپنی رنگت کھونے لگ جاتے ہیں۔ انار کھاتے ہوئے تمباکو نوشی نہیں کرنا چاہئے ، اس سے انٹریوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اپنڈکس کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page