پسینے سے جسم متناسب ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں ٹینس کے ایک پیشہ ور کھلاڑی کی مثال دوں گا جونو مر کھلاڑیوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ اپنا وزن بھی کم کرنا چاہتا تھا۔ تربیت دیتے ہوئے وہ وارم اپ سوٹ پہنے رکھتا اور رفتہ رفتہ اسے میچوں میں بھی یہی سوٹ پہنے رکھنے کی عادت پڑ گئی۔ پھر یوں ہوا کہ وہ لگا تار ہارنے لگا ، بلکہ ایسے بیچ بھی ہارنے لگا جو اسے یقینا جیتنے چاہئیں تھے۔ کیونکہ ان ہی مد مقابل کھلاڑیوں کو وہ سابقہ بینچوں میں ہراتا رہا تھا۔

اس طرح ایک اور کھلاڑی تھا جو ٹریک سوٹ پر جیکٹ پہنے رہتا تھا۔ وہ ٹینس کھیلنے سے پہلے دوڑ بھی لگاتا تھا اور بعد میں پر زور طر یقے سے تکمیلتا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ دھیرے دھیر نے فٹنس کھو رہا ہے جس پر میں نے اسے سمجھایا کہ وہ جس معمول پر عمل پیرا ہے اس کا صرف ایک فائدہ ہوگا کہ جسم گرمی کا عادی بن جائے گا اور کچھ نہیں اگر اچھی اور تادیر ٹینس کھیلائی ہے تو اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھو اور گرم ہونے سے بچاؤ ورنہ اعلیٰ معیار کی فٹنس جو ٹینس کیلئے پہلی شرط ہے سے محروم ہی رہو گے ۔ جسم کو ورام اپ کرنے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو زیادہ پسینہ بہنے کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ جسم سے گرمی خارج کرنے میں توانائی صرف ہوتی ہے اور یہ توانائی ان کروڑوں پسینے کے غدودوں کی سرگرمی سے حاصل ہوتی ہے جو آپ کی جلد کے بالکل نیچےپائے جاتے ہیں اور یوں پسینہ خارج ہونے کے دوران توانائی بھی خارج ہوتی رہتی ہے یعنی کم ہوتی جاتی ہے

اس کے علاوہ پٹھے اپنا کام کرنے کے لئے بھی اسی توانائی کے محتاج ہوتے ہیں لہذا اگر توانائی کا قابل لحاظ حصہ پسینہ خارج کرنے پر ہی خرچ ہو جائے تو جسم کے باقی مانده اشغال جاری وساری رکھنے کے لیے کافی مقدار میں توانائی دستیاب ہی نہیں رہتی اور کام کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ جب پینے کے غدود کام کر کر کے تھک جاتے ہیں توپسینہ نکلنا بند ہو جاتا ہے اور آپ کو ایک نئی مصیبت یعنی لو لگنے سے پالا ہو سکتا ہے۔ جسم کو گرم کرنے میں جو توانائی ضائع ہوتی ہے اسکا دوسرا نقصان دوران خون کے نظام کو پہنچتا ہے۔ جو نہی جسم گرم ہوتا ہے تو جلد کو خون پہنچانے والی نالیاں کھل جاتی ہیں جس سے خون کا بیشتر حصہ جلد کی طرف تیزی سے جانا شروع ہو جاتا ہے۔ اور پٹھے ضروری مقدار سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اب دل کو یہ کمی پوری کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے دھڑکنا پڑتا ہے۔ دل پر یہ دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اگر تا دیر جاری رہے تو آپ بے ہوش ہو کر گر بلکہ مر بھی سکتے ہیں۔ لہذا کوشش کر کے پسینہ لا نا خطر ناک ہے اور کسی طرح بھی فٹنس کے لیے محمد ومعاون نہیں۔ گرم موسم میں ورزش کے دوران بہترین لباس نگی جلد ہے۔ اگر آپ چار دیواری کے اندر ورزش کر رہے ہیں تو زیر جامہ ہی کافی ہے۔ ورنہ کھلے ماحول میں جیسے باغ یا ٹینس کھیلتے ہوئے آپ کو ہلکے رنگ کا لباس پہنا چاہیے۔ گہرے اور ہلکے رنگ کی قمیض پہنتے ہیں وہی فرق ہوتا ہے جو آرام اور بے آرامی میں ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس آرام دہ حد تک ٹھنڈے رہ کر سخت ورزش کرنے میں بھی کوئی خطرہ نہیں۔ جبکہ تکلیف دہ گرم ماحول میں ایسا کرنا سراسر نقصان دہ ہے۔ حتی کہ سونا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا میں نے ایک دوست کی والدہ کو پہاڑی سے آنا فانا نیچے گرتے دیکھا۔ جسکی بظاہر کوئی وجہ مجھ میں نہیں آتی تھی کیونکہ وہ چاک و چوبند اور اسکی خوراک بھی صحیح تھی ۔ ڈاکٹر کے چیک کرنے پر اسے ٹھیک ٹھاک پایا گیا۔ اب یہ محض اتفاق تھا کہ انہی دنوں میں توانائی پر ذخیرہ شدہ حرارت کے اثرات کے بارے میں تحقیق کر رہا تھا۔ سو میں نے اس کے درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے نظام کو جانچا پر کھا تو پتہ چلا کہ اس کے کمبل کو اتنے زیادہ درجہ حرارت پر استعمال کیا جار ہا تھا کہ خاتون ساری رات پسینے میں ڈوبی رہتی ۔نتیجا کمزوری واقع ہونے سے وہ گر پڑی تھی۔ اس کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ درجہ حرارت اتفاہی رکھے کہ جس سے بستر کی سردی تو دور ہو جائے لیکن حد سے زیادہ گرمی نہ پیدا ہو ۔ ایسا کرنےسے اس کی جسمانی طاقت فی الفور عود کر آئی۔

بلاشبہ پسینہ آنے سے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جو کسی بھی فٹنس پروگرام کا محور ہوتا ہے لیکن اس طرح دل ایک نقصان دہ طریقے سے زیادہ کام کرتا ہے۔ ورزش کے دوران آپ کو اپنے دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف وہ ورزش چھوڑنا پڑے گی جو آپ اس وقت کر رہے ہوں۔ لیکن اگر آپ اپنے جسم کو حد سے زیادہ گرم کر کے اپنے دل پر بوجھ زیادہ کر لیں گے تو اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک ہی رستہ ہے اور وہ ہے فورا یخ بستہ تو سے نکلنے اوروہ ہے فوران پانی میں چھلانگ لگا دینا۔ اسی طرح پسینہ گو کیلوریز ( حراروں ) کو تو جلاتا ہے ۔ لیکن وزن کم کرنے کا خطر ناک طریقہ ہے۔ جو فٹنس کے چکر میں آپ کو موت کے منہ تک بھی لے جاسکتا ہے۔ ساری بحث کا لب لباب یہ نکلا کہ آپ کو ایک خاص مقدار میں ہی توانائی درکار ہوتی ہے۔ جبکہ جسم سے پینے کے ذریعے گرمی کے ساتھ ساتھ توانائی بھی نکل رہی تھی ۔ اور اگر توانائی اس طرح ضائع ہوتی رہے تو آپ کے پاس وہ ورزش کرنے کے لیے بھی توانائی نہیں بچے گی جس کے ذریعے آپ پسینہ لانے والی ورزش کرنا چاہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ گھاٹے کا سودا ہے منافع کا نہیں۔ کیا آپ ایسا کرنا پسند کریں گے ؟

Leave a Comment

You cannot copy content of this page