پتلے ہونے سے قبل موٹے تو ہوں

جب لوگ زائد وزن کے ہاتھوں پریشان ہو کر میرے پاس آتے ہیں تو میں انہیں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ میرا پروگرام آئندہ سوموار سے شروع ہوگا ۔ لہذا اس وقت تک انہیں کھانے پینے کی آزادی ہے کیونکہ پروگرام سے پہلے کھانے پینے پر پابندی کا کوئی جواز نہیں۔ میں جان بوجھ کر یہ چاہتا ہوں کہ سوموار کی صبح تک ان کا وزن بھاری ہی رہنا چاہیے۔ یادر ہے کسی بھی پروگرام کے پہلے دو ہفتے سب سے کٹھن ہوتے ہیں۔ کیونکہ اسی دوران خوراک کو جزو بدن کرنے والا نظام صحیح کیا جا سکتا ہے اس لئے قبل از پروگرام کھانا پینا اس نظام میں رد و بدل کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔

اگر آپ ایسا پروگرام چاہتے ہیں جو نا کام رہے تو اسے نیم فاقہ کشی کی حالت میں شروع کریں اور اپنا وزن گھٹانے میں مصروف ہو جا ئیں ۔ لیکن وزن کم کرنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ حقیقت میں یہ گناہ ہے جس کی سزا تو آپ کو بہر حال مل کر رہے گی۔ اگر آپ مذہبی طور پر روزہ رکھ رہے ہیں تو دوسری بات ہے ورنہ وزن گھٹانے کے لئے فاقہ کشی کرنا سراسر غلط ہے۔ میں نے گذشتہ صفحوں میں ایک دوست کی بیوی کا ذکر کیا تھا۔ جس نے دس دنوں میں 12 پاؤنڈ وزن تو گھٹا لیا لیکن بیمار پڑ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ دو تین روز بھوکی رہ کر وہ پیٹ کو کم کر لے گی لیکن یہ خود فریبی تھی۔

اس طرح کرنے سے معدے کی کھانے کی عادت تو کم ہو سکتی تھی جس سے پیٹ میں درد شروع ہو جاتا لیکن پیٹ کا سکڑنا ممکن نہ تھا غذائی کمی نے اس کے اندر نقل و حرکت کے خلاف ایک رد عمل کو جنم دیا جس کی وجہ سے جونہی اس نے ٹینس کھیلنا شروع کی اس کے جسم نے نشاستہ دار غذا کا بچا کھچا ذخیرہ فوراً استعمال کر ڈالا جس کے نتیجے میں اس کے خون میں شکر کی مقدار کم ہو گئی اور اس سطح سے بھی کم ہوگئی جتنی دماغ کو کام کرنے کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ اس طرح اس کا جسم مدافعت کی صلاحیت سے بالکل عاری ہو گیا۔ الرجی اور جراثیمی حملے کا دروازہ کھل گیا۔ میں نے اس کے شوہر کو کہا کہ اسے کھانے پینے پر مجبور کرے لیکن وہ نہیں مانی اور بیمار پڑگئی۔ دراصل اس نے انکار اس لئے کیا تھا کہ وہ سمجھتی تھی جس مقصد کے لئے اس نے اتنی مصیبت اٹھائی تھی اب کھانے پینے سے اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی اور اس کا وزن پھر بڑھ جائے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ اس کی چربی اتنی کم نہیں ہوئی تھی جتنا کہ پانی کم ہو گیا تھا۔

ہماری خوراک کا %50 سے زائد پانی ہوتا ہے۔ اس خاتون نے کھانے پینے کی شدید کمی میں مبتلا ہو کر اہم جسمانی رگ ور بیٹے کو اس اصل مائع سے ہی محروم کر ڈالا جو کھوں ،اعصاب اور دیگر اعضائے جسمانی کے لئے آب حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ بعد میں جو نہی اس نے معقول خوراک لینی شروع کی تو ہوش ٹھکانے آگئے ۔ آخر اتنے بکھیڑوں میں پڑ کر اس نے جو وزن مجموعی طور پر کم کیا ، وہ صرف 2 پونڈ تھا۔ وزن کم کرنے کا جو طریقہ اس نے اختیار کیا تھا وہ بھی انتہائی غیر انسانی اور طبیعاتی اصولوں کے یکسر منافی تھا۔ بلکہ ایک طرح یہ جسم کے قدرتی نظام میں مداخلت تھی اور فطرت کے بالکل بر عکس چلنے کی ناکام کوشش کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

اب میں نے اُسے بحران سے نکالنے کے لئے چار متبادل تجویز کئے۔ اپنے موجودہ نقصان دہ پروگرام کو اس امید پر جاری رکھے کہ اس کے اعضاء نظامِ جسم ، رگ وریشے اتنے جاندار ہیں جو اس چوٹ کو برداشت کر جائیں گے۔ اس نے جتنا وزن گھتایا ہے اس میں سے آدھا دوبارہ بڑھالے اور پھر چربی کو ختم کرنے والے کسی مناسب پروگرام پرعمل کرے۔

وہ اپنے موجودہ کم وزن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے، شاید کامیاب ہو جائے ۔ اس نے 12 پاؤنڈ وزن کم کر لیا تھا اور یہ سوچنے میں حق بجانب تھی کہ چند ماہ مزید یہی پروگرام جاری رکھ کر وہ منزل مقصود پر پہنچ جائے گی خواہ مختصر عرصے کے لئے ہی ایسا ہو ۔ وہ اپنا سارا ضائع شده وزن دوبارہ حاصل کر لے اور نئے سرے سے میرے بتائے ہوئے پروگرام کو اختیار کرے تو میں گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ بارہ ہفتوں میں بارہ پاؤنڈ گھٹا لے گی اور یہ کمی مستقل اور بےضرر ہوگی میں نے اسے بتایا کہ میں ترجیح دوں گا کہ وہ پنے شروع والے وزن پر واپس آئے۔ جس کے بعد ہم نیا پروگرام شروع کریں گے۔ میری تجویز کے ساتھ اتفاق کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا۔ اس کا وزن کم کرنے اور فٹ بنے کا تجربہ نہایت شاندار رہا جس میں اسے کسی قسم کی پریشانی سے سابقہ نہ پڑا اور مقصد بھی بہ طریق احسن پورا ہو گیا۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page