ورزش کے بعد فور اسویٹر پہن لیں۔

عمر رسیدہ لوگوں کی اس بہت عام نصیحت کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ورزش کرنے سے جسم تو پہلے ہی گرم ہو چکا ہوتا ہے۔ اب اس گرمی کو سویٹر کے ذریعے جسم میں تو برقرار رکھنے کا فائدہ؟ جہاں تک اس اندیشے کا تعلق ہے کہ ایسا نہ کرنے سے آپ کو ٹھنڈ لگ سکتی ہے تو ایسی کوئی بات نہیں۔ زیادہ سے زیادہ اور وہ بھی کبھی کبھار یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی وہ گردن میں ذرا کھنچاؤ پیدا ہو جائے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ محض جسم کا درجہ حرارت بدلنے سے آپ سردی کا شکار نہیں ہو سکتے۔ میں نے کچھ اور دیگر افراد کے ہمراہ ایک ٹھنڈے کمرےمیں گھنٹوں بیٹھ کر دیکھا ہے مقصد یہ جانتا تھا کہ جسم اپنے درجہ حرارت کو کنٹرول کس طرح کرتا ہے۔ گو ہم کافی کا نپتے رہے لیکن نہ تو کسی کو زکام ہوا اور نہ ہی کسی کی گردن اکڑی۔ چنانچہ پسینہ اور ورزش کے فورا بعد اپنے جسم کو نازل کرنے کے لیے سویٹر پہننے سے گریز کیجئے۔ جب آپ کا پسینہ خشک ہو جائے تو بے شک سوئیٹر پہن لیں کیونکہ اب ٹھنڈ لگنے کا امکان ہوسکتا ہے۔ ورزش کے بعد سوئیٹ نہ پہن کر خواہ مخواہ جسم کو طویل وقت تک گرم ا نہ رکھنے سے آپ کو خوشگوار احساس ملے گا

کسی مقابلے سے پہلے مقاربت مت کریں

یہ عام خیال کہ مقاربت سے گریز آپ کی توانائی بڑھاتا ہے عملی طور پر بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔ ایتھلیٹ تو پہلے ہی کافی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی طرح انکو تھوڑا سا ہی تفکرات سے آزاد کر دیا جائے تو انکی کار کردگی بہتر ہو جاتی ہے ۔ مشاہدے نے ثابت کیا کہ مقاربت کے بعد اتھلیٹس نے کہیں بہتر نتائج دیے۔ خواہ وہ ایسامقابلے کی صبح ہی کریں۔

ورزش سے عورت کی نسوانیت ختم ہو جاتی ہے

نہیں! حقائق اس کے برعکس سے نہ صرف اس کاجسم لچکدار بن جاتا ہے اور چال ڈھال سے قوت جھلکتی ہے اور اس کے اندر ایک ایتھلیٹ کی سی خود اعتمادی اورسکون پیدا ہو جاتا ہے جس کی بظاہر مدھم شخصیت کے پیچھے زبردست طاقت پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی عورتیں جو وزن اٹھاتی اور جمناسٹک کرتی ہیں ان کے پٹھے مضبوط ہو جاتے ہیں لیکن جلد کے نیچے بکثرت چربی کی موجودگی ان کے پٹھوں میں وہ ابھار نہیں آنے دیتی جو مردوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ ان کا جسم اپنے نسوانی خدوخال برقرار رکھتا ہے۔ گو پٹھوں کی افزائش سے انکا سینہ اور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے لیکن ان کی کمر ، رانیں اور پچھلا حصہ یعنی وہ ، تمام جگہیں جن کا موٹا اور بھدا ہونا عورت کے لیے پریشان کن ہوتا ہے پہلے کی نسبت سڈول اور ہلکی ہو جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے کونسی عورت ہے جوایسا نہ بنا چاہتی ہو ۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page