ورزش کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے

ایک قصہ ہے کہ ایک امیر عورت لمبی گاڑی میں کسی تفریحی مقام پر واقع ہوٹل میں پہنچتی ہے عملہ بھاگ کر اس سامان اٹھانے آتا ہے۔ وہ ایک کو کہتی ہے ”تم انیچی کیس اٹھاؤ” دوسرے کوٹر تک اٹھانے کا کہتی ہے جبکہ تیسرے کو کہتی ہے میرے بیٹے کو اٹھاؤ وہ حیران ہو کر کوٹرنک پوچھتا ہے ” کیا بچہ چل نہیں سکتا ؟ جس پر عورت کہتی ہے کہ چل تو سکتا ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ اسے چلنا نہیں پڑتا۔ لیکن وہ یہ حقیقت نظر انداز کرگئی کہ جو شخص چلنا چھوڑ دیتا ہے، جلد ہی وہ اس کے قابل بھی نہیں رہتا۔

اس بات کو یوں لیں کہ کسی کو موافق ماحول، با افراط خوراک اور مناسب آب و ہوا مہیا کر دی جائے اور اسے کچھ نہ کرنا پڑے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انکی فٹنس اتنی نچلی سطح تک گر جاتی ہے کہ وہ بس زندہ ہی رہ سکتا ہے لیکن اگر اس سے یہ تمام سہولتیں واپس لے لی جائیں تو وہ گھبرا کر سوچتا ہے کہ اب مجھے زندہ رہنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا، کیونکہ میرے کام خود بخود ہونے بند ہو جائیں گے۔

دراصل اپنے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو تھوڑا یا زیادہ تیار کر لینے کا نام ہی فٹنس ہے چونکہ انسان کو اللہ تعالٰی نے ذہن عطا کیا ہے اور وہ سوچ سکتا ہے اسلئے وہ اندازہ بھی لگا لیتا ہے کہ اسے اپنے ماحول کے مطابق کتنا ڈھلنا پڑے گا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ نکما بیٹھ کر وہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا جو خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ اسے کسی اونچی جگہ یا درخت پر چڑھنا پڑ جائے ، یادنگے فساد کا سامنا ہو جائے یا کوئی مشکل کام کرنا پڑ جائے جسمیں طاقت درکار ہوگی تو وہ کیا کرے گا ؟ ایک وقت تھا جب یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جسمانی نقل و حرکت جسمانی بافتوں کی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ کر کے بڑھاپے کو جلد آنے کی دعوت دیتی ہے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ غلط اور اس کے برعکس بالکل صحیح ہے ۔ بافتیں اور کام کی صلاحیت ملنے جلنے سے بڑھتی ہے دل، پھیپھڑوں، جنسی اعضاء اور ہڈیوں کا مستقل استعمال ہی انہیں کارگر رکھنے کی ضمانت ہے اور بڑھاپے کو مئوخر کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسم کو آپ کم یا زیادہ جتنا کام کرنے کا عادی بناتے ہیں وہ اسی طرح ہو جاتا ہے۔ جب آپ کام کرنا بالکل چھوڑ دیتے ہیں تو پٹھے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور جسم کی طاقت بری طرح متاثر ہوتی ہے دل چھوٹا ہو جاتا ہے اور اسکی کار کردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ رگیں غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور جسم کو طاقت دینے والے اجزا بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ بھیانک ہوتا ہے کیونکہ جسم کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا اور آپ کو پریشانی اور ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ اس کے علاوہ ذیا بیطیس ، دل کے ہلکے دورے اور فالج کے خطرات الگ منڈلانے لگتے ہیں یہ سب کچھ اعصاب شکن ہے کہ نہیں۔

متحرک رہنے کے اثرات کا جتنا واضح اثر خلا بازوں پر دیکھا گیا وہ حیران کن ہے جو خلا باز ایک ہفتہ خلا میں رہے ان کی ہڈیاں %10 متاثر ہوئیں جبکہ دو ہفتے اور میں یہی اثر %15 ہو گیا۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ آیا انسان کبھی ستاروں تک پہنچ بھی پائے گا یا نہیں۔ کیا وہاں جا کر اسکا کچھ بچے گا بھی یا نہیں۔ بعد میں سکائی لیب مشن کے دوران یہ سامنے آیا کہ 15 دن کے بعد ہڈیوں کا نقصان پھر سے بحال ہونے لگا ۔ گو خلا بازوں کی کم ضرور ہوئی لیکن پھر بھی اتنی ضرور تھی کہ روز مرہ کام آسانی سے کئے فٹنس شروع کی بی سر دوران دیکھا گیا کہ جو خلا باز چاند کے گرد منڈلاتے رہے ان کی جاسکیں ۔ اپالومشن کے دوران ، چاند پر اترنے اور کام کرنے والوں کی نسبت کم تھی۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page