ورزش دل کے لئے کیوں مفید ہے

یہ تو عام لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ ورزش دل کو فائدہ دیتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ کیوں اور کیسے؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں۔

صحیح ورزش کے دوران دل آکسیجن سے لبریز ہو اٹھتا ہے جس سے اس کی طاقت میں اضافہ ہوکر کارکردگی کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ بی تازہ دم دل، حرکت اور آرام دونوں حالتوں میں کم دھر کرتا ہے اور اس کی خون کو رگوں میں دھکیلنے کی صلاحیت بھی فزوں تر ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دل کا طریق کار سمجھنا چاہتے ہیں تو ایک بڑا سادہ سا کام کیجئے۔ اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کی اکٹھی کر کے دائیں ہتھیلی میں رکھ کر دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے نچوڑنے کی کوشش کیجئے۔ یہاں دائیں ہاتھ کی انگلیاں جو دل کے پٹھے کی طرح کام کر رہی ہیں کو دوران خون یعنی بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے تا کہ خون شریانوں کے ذریعے پورے جسم کو مہیا ہو سکے۔ جتنا زیادہ خون دل کو ملے گا اس کو اتنا ہی زیادہ کام کرنا پڑے گا اور جس سے اس کی بڑی مناسب کسرت ہو جائے گی۔

ایسا دل جو کسرت سے مضبوط ہو گیا ہو اور دوسرا وہ جو کسرت نہ کرنے سے کمزور پڑ گیا ہو ان دونوں کا واضح فرق بھی اوپر دی گئی مثال سے سمجھ میں آجائے گا۔ پہلے آپ بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو ہلکے سے دبائیں اور پھر زور سے ۔ ہلکا دباؤ ایک کمزور دل کے طرز عمل کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ زیادہ دباؤ مضبوط دل کی کارگزاری کا مظہر ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورزش سے مضبوط بنایا جو اول مقابلتاً زیادہ خون جسم کو فراہم کرے گا اور اس کو زور بھی کم لگانا پڑے گا۔ ورزش کا دل کو ایک اور فائدہ بھی ہے۔ اس سے دل کو ایک طرح کی بد و فرا ہم ہوتی ہے وہ یوں کہ ورزش سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور ہر ٹھہ ایک ثانوی دل کا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ دل کی طرح سکڑ کر خون دل کی طرف واپس بھیجتا ہے اور پھیل کر خود خون سے لبریز ہو جاتا ہے اسی لئے ایک مضبوط پٹھوں والا آدمی جو اپنے مناسب وزن سے 15 پاؤنڈ زائد وزن رکھتا ہے اس کے دل کو کام کرنے میں کوئی مسئلہ در پیش نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کے یچھے دل کے فعل میں مدد دیتے ہیں۔ جبکہ ایسا آدمی جو صرف موٹا ہونے کی وجہ سے 15 پاؤنڈ زیادہ وزن لئے پھرتا ہے، اپنے دل کو مصیبت میں ڈالے ہوئے ہے کیونکہ اسکی چربی دوران خون کو بڑھانے میں کچھ نہیں کرتی۔

ایک ماہر دل سے عام پھٹوں اور دل کے پٹھے میں کسی ربط وضبط کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں دل کا آپریشن کرنے سے پہلے مریض کے ران کے پٹھوں کو دبا کر اس کے دل کی کیفیت جان لیتا ہوں۔ اگر اس کی ران مضبوط ہے تو اس کا دل مضبوط ہے اور اگر ڈھیلی ڈھالی ہے تو دل بھی ویسا ہی ہوگا۔ دل کو مضبوط کرنے والی ورزش ایسی ہونی چاہیے جس میں توازن کے ساتھ ساتھ تسلسل بھی ہو اور پٹھے بار بار خون کو تیزی سے حرکت دیں اور دل کی طرف بھیجیں اس کو وریدی واپسی“ کہتے ہیں، پٹھوں کی شمولیت سے یعمل تیز تر ہو جاتا ہے۔

یادرکھیں اگر پٹھے ساتھ نہ دے رہے ہوں تو دل کی دھڑکن کافی نہیں مثلاً جب آپ جذباتی ہوں تو دل تیزی سے دھڑکتا تو ہے لیکن چونکہ پٹھے ساتھ ہی رو بہ عمل نہیں ہوتے اور دل کی طرف وافر مقدار میں خون نہیں آتا جیسا کہ ورزش سے ہوتا ہے۔ نتیجتاً دل پر زور نہیں پڑتا اور اسے زیادہ خون دھکیلنے کا موقع نہیں ملتا فٹنس والی ورزش دل کو زائد ا خون سے بھر کر پھیلا دیتی ہے۔ اور اس کو زور سے سکڑنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

دل خود بخود کام کرنے کیلئے نہیں بنا ہے جو ایک آسان سے تجربے سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ بالکل بے حس و حرکت ہو کر کھڑے ہو جائیں حتی کہ آپ کا کوئی مٹھ بھی حرکت نہ کرے۔۔ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹوں کے بعد آپ کو ششی سی پڑتی ہوئی محسوس ہوگی ۔ فوراً اپنے پاؤں کے انگوٹھوں کو حرکت دیں ورنہ آپ دھڑام سے فرش پر آرہیں گے۔ آپ کی یہ خفیف کی حرکت آپ کی پنڈلیوں کے پٹھوں کو سیکٹڑے گی اور خون کا دوران دل کیطرف کرے گی جبکہ کشش ثقل نے آپ کی ٹانگوں میں خون کو جامد اور گاڑھا کر دیا ہے اس تجربے سے یہ بھی عیاں ہو گیا کہ میں کلی پٹھوں کی مدد کے بغیر اکیلا دل صحیح دوران خون برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ یہی وجہ ہے مذکورہ بالا صورتحال میں دماغ کو خون نہ پہنچنے سے آپ پر بے ہوشی طاری ہونے لگتی تھی۔

ورزش نہ کر کے آپ اوپر والے تجربے کو دہراتے ہیں ۔ آپ اپنے دل سے وہ کام لینا چاہتے ہیں جس کیلئے وہ بناہی نہیں اور نہ اس کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ مذکورہ تجربے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ ایک ہلکی سی حرکت بھی دوران خون کو صحیح رکھ سکتی ہے ( آپ نے دیکھا کہ پاؤں کے انگوٹھوں کو تیزی سے ہلانے سے ہی تو ازن پھر سے بحال ہو جاتا ہے یہی حال آپ کی زندگی کا بھی ہے ہلکی سے ہلکی حرکت بھی دل کے پٹھے اور ہیکلی پٹھوں کو یا ہم متحد کر سکتی ہے اور میں کھی بیٹھے اپنا بنیادی کردار یعنی ثانوی دل بن کر دوران خون کو بہتر بنانا ، ادا کرنے لگتے ہیں۔ یہاں سے ایک ضمنی سبق یہ ملتا ہے کہ جب آپ میز پر بیٹھ کر کام کر رہے ہوں یا آرام کرسی میں دراز ہو کر مطالعہ فرما رہے ہوں تو بار بار اٹھ کر ادھر ادھر گھومتے رہنا بڑا مفید ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسطرح آپ جو بھی کام کر رہے ہوں وہ بہتر طور پر سرانجام پاتا ہے۔

میں نے پی ایچ ڈی کے طلبا میں یہ نوٹ کیا کہ 4 گھنٹے کے امتحان میں جو طلباء درمیان میں سے اٹھ کر ادھر ادھر گھوم لیتے تھے ان کے جوابات ان طلباء سے بہتر تھے جو سر جھکائے مسلسل پرچہ عمل کرنے میں لگے رہے ۔ موخر الذکر طلباء شروع شروع میں تو صحیح جوابات لکھتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے جبکہ چلنے پھرنے والے طلباء کا سوال حل کرنے کا معیار یکساں رہا۔ اس کی وجہ انکے دوران خون کا برقرار رہنا ہے جس سے انکے دماغ کو ضروری مقدار میں خون پہنچتا رہتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ پٹھے ہمارے جسم کے انجن ہیں جن سے یہ چلتا ہے ۔ ان انجنوں کا ایندھن وہ لا تعداد کیمیائی مادے ہیں جو مسلسل جسم میں بنتے تو رہتے ہیں لیکن انجن کی غیر موجودگی میں بے کار ہوتے ہیں۔

اگر آپ کسی بچھے کا استعمال ترک کر دیں تو ایک وقت آتا ہے کہ وہ کمزور پڑتے پڑتے بالکل معدوم ہو جاتا ہے اور ریشہ بھی تقریباً غائب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے پھر کام لینے لگ جائیں تو یہ راکھ میں دبی چنگاری کی طرح پھر سے بھڑک اٹھتا ہے۔ اگر آپ نے پچھلے میں سالوں میں اپنے جسم کو کوئی قابل ذکر حرکت نہیں دی تو بس اتنا کیجئے کہ جس آبادی میں آپ کی رہائش ہے ذرا اس میں چلنا پھرنا شروع کردیں تو چند ہی دنوں میں کایا پلٹ جائے گی ۔ جہاں پہلے کچھ نہ تھا وہاں طاقت دوبارہ عود کرنے لگے گی۔ اگر آپ کسی ایسی لیبارٹری کی زیر نگرانی ورزش کریں جو جسمانی افعال کو جانچ پر کچھ سکتی ہو تو آپ کو پتہ چلے گا آلات اس کے کتنے فوائد آشکار کرتے ہیں ۔ مثلاً جسمانی کارکردگی میں بہتری ، دل پر دباؤ میں کمی ، دل کے درد میں افاقہ ، بلا تکلیف نقل و حرکت خون کے دباؤ میں نمایاں کمی ، خون کی شریانوں میں فراخی ، خوردبینی رگوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ اور خون میں چربیلے مادوں کی کمی وغیرہ وغیرہ ۔ اگر آپ مریض رہے ہیں تو ورزش کی بدولت ایک بار پھر معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page