نبض کی تربیتی رفتار

 مثلاً اگر آپ کی عمر 40 سال ہے تو 220 میں سے 40 منہا کریں تو باقی 180 بچتا ہے۔ اسے 60 سے ضرب دیں تو 108 حاصل ہوا۔ اسے آسانی کے لئے 110 سمجھیں۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ہر وقت آپ نبض کی رفتار گنے کے تابع مہمل بنے رہیں۔ بلکہ اسے یہ اندازہ لگانے میں استعمال کریں کہ کتنی شدت کی ورزش آپ کے لئے مناسب ہے۔ عام طور پر ہلکے یا درمیانے درجے کی ورزش کا احساس نبض کی تقریباً 120 فی منٹ دھڑکن سے منسلک ہوتا ہے۔ جب ایک بار آپ کو ورزش کی سطح کا اندازہ ہو جائے تو پھر کبھی کبھار ہی نبض گننا پڑے گی۔ جوں جوں آپ کی فٹنس بہتر ہوتی جائے گی تو آپ محسوس کریں گے کہ وہی درمیانہ درجہ حاصل کرنے کے لئے اب آپ کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ یعنی زیادہ تیز چلنا یا زیادہ تیز سائیکل چلانا پڑے گا۔ اور اگر بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی لمبے عرصے کے لئے ورزش چھوڑ دی جائے تو آپ کو تھوڑے سے ہی کام پر نبض 120 پر چلتی نظر آئے گی اور تھوڑ اسا تیز چلنے یا تھوڑا سا سائیکل چلانے سے ہی آپ کا براحال ہو جائے گا۔

آپ کی نبض کے مکمل کمپیوٹر ہونے کا ثبوت NASA کے ایگزیکٹو ایڈ منسٹریٹر، جسم ینگ بلڈ کے تجربے سے ملتا ہے۔ اس کا دفتر جانسن خلائی سنٹر، ہوسٹن کی پانچویں منزل پر تھا۔ جیسے ہی اسے پتہ چلا کہ ہم خلا بازوں کو فٹنس پروگرام کردار ہے ہیں، تو اس نے بھی یوں شریک ہونے کا فیصلہ کیا کہ اپنے دفتر تک جانے کے لئے سیڑھیوں پر جو گنگ کرتے ہوئے جانے کا تہیہ کر لیا۔ ہم نے اسے اجازت دے دی لیکن شرط یہ لگائی کہ اس کی نبض 120 ہی چلنی چاہیے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ پہلے ہفتے کے دوران اسے کئی جگہ رکنا پڑا۔ اور تین ماہ کے بعد یہ حالت ہوگئی کہ 120 فی منٹ کی رفتار حاصل کرنے کے لئے اسے تقریبا دوڑ کر بغیر رکے ہوئے اپنے دفتر تک جانا پڑتا۔

کوئی پرگرام خواہ کتنے ہی اعلی پیمانے کا کیوں نہ ہو۔ نبض کا دھیان رکھے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ عام معیاری پروگرام یہ دعوی کرتے ہیں کہ اگر آپ کسی مقررہ ضابطے کے اندر رہ کر ورزش کریں گے تو یقینا آپ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ مان لیا کہ آپ کو خاص حد کی کار کردگی حاصل ہو جائے گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کار کردگی آپ کو فائدہ کیا پہنچاتی ہے، شاید کچھ بھی نہیں۔ الٹا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے لئے مہلک ثابت ہونے والی ہو۔ الیکٹرونک پروگرام اسی لئے ناقص قرار پائے ہیں ان میں کارکردگی کا معیار اس طرح متعین کیا جاتا ہے کہ ہر دفعہ آپ کو پہلے کی نسبت قدرے بہتر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے پس منظر میں دو باتیں ہوتی ہیں۔ ایک ترغیب، دوسرے بتدریج اضافہ ۔ لیکن بھا! جسمانی قواعد وضوابط کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ کسی مخصوص ورزش کا طریق کار آپ پر کس طرح اثر انداز ہورہا ہے۔ آیا وہ فائدے کی نسبت نقصان تو زیادہ نہیں کر رہا۔ یہ جانے کا بس ایک ہی طریقہ موثر ہے اور وہ ہے نبض کی بنیاد پر ورزش کرنا ۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ بے سود ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page