متوازن خوراک کا انتخاب”

خوراک کے معاملے میں رنگا رنگ اجزا کے اجتماع ( تنوع) سے ہی زندگی کا صحیح لطف عبارت ہے۔ اور اس سلسلے میں کسی کے قسم کے طعام کو یکسر نکال دینا غیر مناسب ہے۔ یہ ایک مخصوص طعام پر زیادہ انحصار سے ملنے والے فائدے کی نسبت زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جب کہیں بھی آپ اپنی خوراک میں سے کسی قسم کے طعام کو موقوف کرنے کے بارے میں پڑھیں تو ہوشیار اور چوکنے ہو جائیں کیونکہ اس طرح آپ مختلف قسم کی بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں۔ جبکہ ممنوعہ خوراک صرف حساسیت (ایرجی ) اور چند مخصوص بیماریوں تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ اگر آپ اس چکر میں پڑ گئے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ مریض کی الماری میں سے اس کی دوائی نکال کر بلا ضرورت اور خواہ مخواہ استعمال کرنے لگ جائیں۔

بھلا یہ کہاں کی عقلمندی ہے۔ اگر آپ کے خون کے حالیہ معائنے میں چربیلے مادے کی مقدار زیادہ ظاہر ہوئی ہے اور آپ چھ انڈے روزانہ استعمال کر رہے ہیں تو انڈوں کی مقدار میں کمی تو دانشمندی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انڈے آپ کے لئے زہر ہو گئے اور آپ کو ان کے نزدیک بھی نہیں جانا چاہیے۔ دراصل انڈے اور چربیلے مادے زندگی کے لئے ضروری اور مفید بھی ہیں اور ان سے مکمل گریز بعید از منطق ہے۔ غذا اور ورزش میں گہرا تعلق ہے اگر آپ بالکل غیر متحرک اور جامد زندگی گزار رہے ہیں تو خوراک کے معاملے میں اتنا ہی محتاط ہونے کی ضرورت ہے اور ہفتے میں تین سے زیادہ انڈے نہیں استعمال کرنے چاہئیں ۔ ہاں اگر آپ زیادہ انڈے کھانا چاہتے ہیں تو پھر تھوڑی ورزش بھی ضرور کیجئے !

عام طور پر جسم کو پتلا کرنے والی اشیا مثلا انگور یا ناشپاتی اور گھر یلو پیر میں سے صرف ایک کا طویل استعمال شدید نا مناسب ہے۔ ایک ماہ یوں کرنے سے آپ بیمار پڑسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص غذائیت میں وہ سب کچھ شامل ہوتا ہے جس سے آپ کی خوراک تنوع اور رنگارنگی سے محروم ہو کر گفتی کی چند نام نہاد طلسماتی اثر والی ایشیا تک محدود ہو کر رہ جائے۔ ایسے تمام مشورے جن میں ایک جانب نشاستہ دار اشیاء سے مکمل اجتناب اور دوسری جانب ان کے علاوہ ہر شے سے اجتناب اور صرف گریپ فروٹ استعمال کرنے کو کہا جائے، بالآ خر خطرناک غذائی کمی کا سبب بنتے ہیں۔

تمام غذائی مسائل کاحل، متنوع یعنی رنگارنگ خوراک میں موجود ہے۔ اگر آپ کو بڑا گوشت پسند ہے تو شوق سے کھا ئیں ، اسی طرح سوکھا ہوا نمکین گوشت آئسکریم الغرض جس چیز کو بھی آپ کا دل ہے کھائیں اور جو کچھ بھی آپ کے من کو بھاتا ہے، ہفتے میں ایک بار حرج نہیں غذائیت سے بھر پور ہوتی ہے، صرف اس لئے کہ اس میں مختلف قسم کی اشیائے خوردونوش شامل ہوتی ہیں مثلا گوشت کا ایک ٹکڑا، گھر یلو پنیر، سلاد اور پھل وغیرہ۔ جو چیز اس کھانے کو غذائیت بخش بناتی ہے وہ اس کی مقدار یا معیار نہیں بلکہ تنوع ہے۔ متنوع یا متوازن خوراک مطلب ہے نشاستہ دار غذا لحمیات، چربی ، حیاتین ، اور معدنیات کا ایک حسین امتزاج ۔ کیمیائی طور پر نفیس بنائی گئی نشاستہ دار خوراک جیسے سفید چینی اور سفید آٹا غذائیت کے اعتبار سے کم ترین ہوتے ہیں۔ اگر خرچ کی گئی توانائی سے زیادہ مقدار میں نفیس نشاستہ دار خوراک کھائی جائے تو وہ فورا چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس لئے غیر متحرک لوگوں میں چربیلے مادوں کا خون کی نالیوں میں جم جانا شکر کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث ہوتا ہے نہ کہ چربی کی وجہ سے، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔

ایک اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ جسم کے رگ وریشے کی ساخت آپ کی خوراک کے مطابق ہوتی ہے۔ ایتھلیٹ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ جتنا زیادہ گوشت کھایا جائے ، اتنے ہی زیادہ پیچھے بنتے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے اور کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے لوگ اس سے بہتر جانتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ متوازن غذا کے تین بنیادی اجزاء یعنی لحمیات، چربی اور نشاستہ دار غذا ئیں آسانی سے باہم ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ لحمیات کا ایک ذریعہ آختہ شدہ نر بچھڑے کا گوشت ہے۔ یہ جانور گھاس پر چلتا ہے جو تقریبا تمام کا تمام خالص نشاستہ دار غذا ہے۔ ایک طرح سے جب ہم بڑا گوشت کھاتے ہیں تو گھاس کی ترقی یافتہ شکل کھا رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ خیال بالکل لغو ٹھہرا کہ ہم وہی کچھ ہوتے ہیں جو کچھ کھاتے ہیں۔ آپ کے جسم کا جادو پتہ نہیں کیا سے کیا کر گزرتا ہے!

ابھی تک ماسوائے چند ایک کے، حیاتین کا جسم میں عملی کردار متعین ہونا باقی ہے۔ اس لئے آنکھیں بند کر کے ان کا اندھا دھند استعمال بھی بلا جواز ہے۔ لہذا مختلف قسم کی گولیوں اور کپسولوں کی بھر مار سے جسم کو ان کی ہم رسانی کی جگہ زیادہ بہتر اور یقینی طریقہ یہ ہے کہ متوازن غذا سے اپنی بدنی ضرورت پوری کی جائے مثلاً ایسی غذا ئیں جیسے دودھ، انڈے، غلہ اور مچھلی وغیرہ ، جن کے بارے میں ہم بخوبی یقین سے جانتے ہیں کہ وہ غذائیت سے لبریز ہیں ۔ معد نیات کا بھی یہی معاملہ ہے جس رفتار سے یہ مارکیٹ میں آ رہے ہیں لگتا ہے ایک دن تمام کے تمام بنیادی کیمیائی عناصر گولیوں کی شکل میں ہمارے جزو بدن ہو جائیں گے۔ بجائے اس کے زیادہ مفید یہی ہے کہ متوازن غذا کھانے کی کوشش کی جائے۔ ان کی ضرورت خود بخود پوری ہو جائے گی۔

ایک شام میں کسی جگہ رات کے کھانے پر مدعو تھا۔ میرا میزبان بڑے فخر سے مجھے بوتلوں اور مرتبانوں کا ایک ذخیرہ دکھانے لے گیا جن میں مختلف اقسام کی اغذیہ لحمیات اور معد نی اشیا بھری ہوئی تھیں۔ میں نے اب تک کسی کے پاس اتنا بڑا ذاتی مجموعہ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن میں اسے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ وہ پیسے کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہا۔ کیونکہ اگر اس کا ٹھکا نہ کسی دور در از بیابان میں ہوتا جہاں آلوؤں کے علاوہ کھانے کو اور کچھ میسر نہ ہوتا تو پھر تو اس سے عظیم ذخیرے کا کوئی جواز بھی تھا لیکن امریکہ میں ایسا کوئی گوشہ نہیں جہاں متوازن غذا دستیاب نہ ہوتو پھر اس عیاشی کا کیا فائدہ؟

آئے روز ہمیں اس قسم کے اندیشوں میں مبتلا رکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے حیاتین نہ کھاؤ گے تو یہ ہو جائے گا، اس قسم کے معدنیات نہ لئے تو وہ ہو جائیگا۔ یہ اسی قسم کی بے سروپا باتیں ہیں کہ صحت کے لئے اتنے گھنٹے کی جان تو ڑ ورزش اور اتنے گھنٹے کی نیند ، ناگزیر ہے۔ در حقیقت آپ کا جسم ایک ایسے شکاری کا جسم ہے جو کسی بے آباد جزیرے میں پڑا ہوا ہو آپ کے بدن میں تمام ضروری اجزا کا اتناذ خیرہ موجود ہوتا ہے کہ دنوں تک کوئی خوراک نہ ملنے کے باوجود بھی آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہاں البتہ پانی ضرور ایک ایسی چیز ہے جس کی کمی روز کے روز پوری ہونا چاہیے۔ اس تمام عرصے میں جب آپ کافی مقدار میں تقویت بخش غذا نہ کھا پارہے ہوں تو آپ کے جسم کا حیرت انگیز خود کاراندرونی کارخانہ آپ کے لئے ہر مطلو به غذا تیار کر کے مہیا کرنے کے بالکل قابل ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ آپ کا جسم لحمیات اور چربی بنا سکتا ہے۔ حتی کہ اگر آپ کو فاقہ کشی پر بھی مجبور ہونا پڑے تو محض چند غذائی حراروں والی کوئی سی بھی خوراک زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔ بعد میں چند ہفتوں کی متنوع اور متوازن خوراک آپ کی یہ تمام کی دفع کر کے آپ کو پھر سے تازہ دم اور ہشاش بشاش بنادے گی۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page