فٹنس کا تین مختصر مرحلوں میں مکمل حصول”

فٹنس کا تین مختصر مرحلوں میں مکمل حصول”

اب ہم جو کچھ بتائیں گے وہ مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں مفید ہے، چونکہ ضروریات ایک جیسی ہیں تو ورزشیں بھی ایک جیسی ہونی چاہئیں ۔ عورتوں کو بھی اچھے پچھوں کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ مردوں کو ۔ اچھے پیچھے بنانے کے لئے پہلے انہیں ایک خاص حد تک رگ وریشے کی ضرورت ہے۔ پھر انہیں پٹھوں کی دو خصوصیات طاقت اور قوت برداشت بھی درکار ہونگی۔ انکے کام یا کھیلوں کے لئے دونوں لازمی ہیں۔ اور آخر میں ان کے لئے بھی دل اور پھیپھڑوں کی قوت برداشت اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی کہ مردوں کے لئے ۔ عام طور پر مرد اپنا ہر کام جوش و جذبے سے کرنے کے شوقین ہوئے ہیں ۔ جیک عورتیں اس طرح نہیں ہوتیں۔ ہمارا پروگرام دونوں سے، ورزش مختصر وقت کے اندر لیکن پوری توجہ سے کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اس کے لئے اپنے دل کی دھڑکن تیز کر کے فٹ بننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ جبکہ بھر پور ورزش ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کا پروگرام 24 ہفتوں پر محیط ہے اور اس کے بعد ساری زندگی آپ کو اسے اپنائے رکھنا ہوگا۔ آپ میں سے ہر کوئی اپنی ہمت کے مطابق ورزش کرے گا۔ اور آہستہ آہستہ اسے ذرا مشکل بناتا جائے گا۔ یہ اتنی ہی مشکل بنانی ہوگی جس سے ایک ہلکے اوور لوڈ کی شکل پیدا ہو جائے ۔ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا کسی دوسرے سے موازنہ نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

پہلا مرحلہ

پہلے آٹھ ہفتوں کے دوران 10 منٹ کے دورانے کی تقسیم کچھ یوں ہوگی۔

ایک منٹ

چار منٹ۔

پانچ منٹ

لچک پیدا کرنے والی ورزشیں۔پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشیں ۔کوئی بھی ایسی ورزش جس سے آپ کے دل کیوھر کن مطلوبہ حد تک پہنچ سکے۔

لچک پیدا کرنے والی ورزشیں 

یہ چار عدد ہیں اور ان کا مقصد آپ کی حرکت کر نے کی صلاحیت میں اضافہ کر کے، اسے آپ کے لئے آسان بنانا ہے۔ یہ کوئی پریڈ نہیں ہے۔ انکی تربیت آپ اپنے حسب خواہش تبدیل کر سکتے ہیں۔ کچھ گنا نہیں ہے بس ہر ورزش پر پندرہ سیکنڈ صرف ہونے چاہئیں۔

(ا) اپنے ایک بازو کو آسمان یا چھت کی جانب جتنا اونچا لیجا سکتے ہیں لیجائیں ۔ اور آپ کا ہاتھ سر کے اوپر ہونا چاہیے۔ اس میں جسم کو اتنا کھچاؤ دیں کہ وہ آپ کے پہلو سے ہوتا ہوا مختے تک محسوس ہو ۔ جب آپ پوری طرح باز کو اوپر کر چکیں تو اسے نیچے لے آئیں۔ اب دوسرے بازو سے بھی یہی ورزش دہرائیں ۔ اور اس دوران ایک بلی کی مانند بازوؤں

(ب) بازوؤں کو موڑیں۔ اب اس کی مخالف سمت میں بھی اسے دہرائیں ۔ فوج میں یہی ورزش جھٹکے سے کرائی جاتی ہے لیکن ہم فوجی نہج کے پابند نہیں، اس لئے براہ مہربانی جھٹکوں سے گریز کریں۔

(ج) اپنے گھٹنوں کو اندر کی جانب سے اپنے ہاتھوں سے پکڑیں۔ اور سر کو مع کا ندھوں کواندر . زور اور تیزی بھی اختیار نہ کریں بس آرام سےکو آنے جانب حرکت دیں۔ اور اپنے اوپر والے دھڑ کو جتنا موڑ سکتے ہیں کے نیچے جھکاتے ان با نچے کو جھکتے جائیں۔ بعض لوگ دوسروں کی نسبت گھٹنوں کے زیادہ قریب پہنچ سکتے ہیں ۔ اس کا سارا دارو مدار آپ کی فٹنس پر ہے۔ اگر یہ پہلی ترین سطح کی ہے تو جھک کر سر کا رُخ ہی گھٹنوں کی جانب کر لینا بڑی کامیابی ہے اور اس سے بھی آپ کو بڑا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر آپ میں لچک پہلے ہی ہے تو جلد سر کو گھٹنوں کے ساتھ لگا لیں گے۔

(و) اپنے سر کو بائیں جانب سے اس طرح موڑیں کہ آپ کی ٹھوڑی بائیں کندھے پر ہو۔ اب اپنے بائیں ہاتھ کو چہرے کی دائیں جانب رکھیں۔ جبکہ داہنے ہاتھ سے مصر کو تھام لیں۔ اور دونوں ہاتھوں سے سر کو اتنا موڑیں کہ جتنا یہ خود سے نہ مرسکتا ہو لیکن خیال رکھیں کہ جھٹکا بالکل نہ لگے۔ آرام آرام سے کریں۔ پھر اس ورزش کی ترتیب کو بالکل الٹادیں۔ شروع شروع میں ہر ورزش ایک بار کرنا کافی ہے ۔ بعد میں دو یا تین بار بھی کی جاسکتی ہیں ہاں یہ دھیان رہے کہ زور لگانے اور جھٹکا دینے سے گریز کرنا ہے۔ لچک پیدا کرنے والی ورزشیں –اب جبکہ آپ نے اپنے جسم کو لچک دے لی ہے تو آئیں اگلی جانب؟

 پٹھوں کو پھیلانے اور بڑا کرنے والی ورزشیں : –

اگلے چار منٹوں کے دوران آپ پٹھوں کو مزاحمت کے خلاف پھیلنے والی ورزشوں کے ذریعے مضبوط بنائیں گے۔ جب آپ لگا تار یہ ورزشیں کرتے رہیں گے تو مزاحمت پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ اس لئے آہستہ آہستہ مزاحمت کو بڑھاتے یعنی ورزش کو کچھ مشکل تر بناتے جائیں ۔

اس سلسلہ میں آپ دو دومنٹ کی ورزش باری باریں کریں گے۔ یعنی کل چار منٹ لگیں گے ۔ پہلی ورزش آپ کے سینے، رانوں اور بازؤوں کے پٹھوں کو پھیلائے گی۔ جبکہ دوسری کمر اور پیٹ کے پٹھوں کو پھیلائے گی۔ ٹانگوں کے متعلق بتفکر نہ ہوں۔ اس نشست کے آخر میں آپ کو ٹانگوں کی ورزش کے متعلق بھی تفصیل سے بنایا جائے گا۔ پنھوں کو پھیلانے والے ڈنٹر: – کسی دیوار کے ساتھ ایک بازو کے فاصلے پر کھڑے ہو جا ئیں اپنے بازوؤں کو کندھوں کی سیدھ میں دیوار پر رکھ لیں۔ اپنے جسم کو یہاں تک نیچے لائیں کہ آپ کی چھاتی دیوار کے نزدیک آ جائے۔ اب جسم کو واپس شروع والی پوزیشن میں لے آئیں۔ اگر یہ مشکل لگے تو ؛ یوار کے مزید قریب آکر یہی ورزش کر یں۔

اس ورزش کو 15 یا 20 دفعہ اس قدر کریں کہ آپ کو مشکل محسوس ہو۔ یہ ایک سیٹ ہوا۔ اگر پندرہ یا اس سے کم دفعہ میں ہی آپ تھک جائیں تو ایک نشست میں بس اتنی بار کو ہی کافی سمجھیں۔ اسی طرح اگر پندرہ ہیں کا ایک سیٹ آپ کو آسانی سے لگالیں تو پیروں کو دیوار سے مزید دور کر کے درمیانے درجے کی شدت تک لانے کے لئے پاؤں بتدریج دیوار سے دور کرتے جائیں۔ اگر آپ بغیر تھکے ہمیں سے زیادہ ڈنر لگالیں تو اپنی پوزیشن میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بعض لوگ ابتداء سے ہی دیوار کے مقابل ڈنر پیلنے کو بہت آسان پائیں گے۔ ائیکی صورت میں انہیں باورچی خانے کے تختے غسلخانے کے بیسن یا دروازوں والی الماری کا انتخاب کرنا چاہئیے ۔ یعنی اس چیز جس کی بلندی شانوں سے کم ہو۔اب جبکہ آپ نے اپنے جسم کو لچک دے لی ہے تو آئیں اگلی جانب پٹھوں کو پھیلانے اور بڑا کرنے والی ورزشیں : – اگلے چار منٹوں کے دوران آپ پٹھوں کو مزاحمت کے خلاف پھیلنے والی ورزشوں کے ذریعے مضبوط بنائیں گے۔ جب آپ لگا تار یہ ورزشیں کرتے رہیں گے تو مزاحمت پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ اس لئے آہستہ آہستہ مزاحمت کو بڑھاتے یعنی ورزش کو کچھ مشکل تر بناتے جائیں ۔

اس سلسلہ میں آپ دو دومنٹ کی ورزش باری باریں کریں گے۔ یعنی کل چار منٹ لگیں گے ۔ پہلی ورزش آپ کے سینے، رانوں اور بازؤوں کے پٹھوں کو پھیلائے گی۔ جبکہ دوسری کمر اور پیٹ کے پٹھوں کو پھیلائے گی۔ ٹانگوں کے متعلق بتفکر نہ ہوں۔ اس نشست کے آخر میں آپ کو ٹانگوں کی ورزش کے متعلق بھی تفصیل سے بنایا جائے گا۔ پنھوں کو پھیلانے والے ڈنٹر: – کسی دیوار کے ساتھ ایک بازو کے فاصلے پر کھڑے ہو جا ئیں اپنے بازوؤں کو کندھوں کی سیدھ میں دیوار پر رکھ لیں۔ اپنے جسم کو یہاں تک نیچے لائیں کہ آپ کی چھاتی دیوار کے نزدیک آ جائے۔ اب جسم کو واپس شروع والی پوزیشن میں لے آئیں۔ اگر یہ مشکل لگے تو ؛ یوار کے مزید قریب آکر یہی ورزش کر یں۔

اس ورزش کو 15 یا 20 دفعہ اس قدر کریں کہ آپ کو مشکل محسوس ہو۔ یہ ایک سیٹ ہوا۔ اگر پندرہ یا اس سے کم دفعہ میں ہی آپ تھک جائیں تو ایک نشست میں بس اتنی بار کو ہی کافی سمجھیں۔ اسی طرح اگر پندرہ ہیں کا ایک سیٹ آپ کو آسانی سے لگالیں تو پیروں کو دیوار سے مزید دور کر کے درمیانے درجے کی شدت تک لانے کے لئے پاؤں بتدریج دیوار سے دور کرتے جائیں۔ اگر آپ بغیر تھکے ہمیں سے زیادہ ڈنر لگالیں تو اپنی پوزیشن میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بعض لوگ ابتداء سے ہی دیوار کے مقابل ڈنر پیلنے کو بہت آسان پائیں گے۔ ائیکی صورت میں انہیں باورچی خانے کے تختے غسلخانے کے بیسن یا دروازوں والی الماری کا انتخاب کرنا چاہئیے ۔ یعنی اس چیز جس کی بلندی شانوں سے کم ہو۔

جس شخص کی حالت شروع ہی سے درست ہوگی اس کے لئے مذکورہ پوزیشنوں میں 20 ڈنٹر لگانا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اب وہ ساری ورزش کو الٹا کر کے مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے۔ یعنی اپنے ہاتھوں کو پیروں سے اونچار رکھنے کی بجائے اپنے پیروں کو ہاتھوں سے اونچا کرلے۔ پہلے ہاتھوں کو کسی بچی بنچ پر رکھا جائے، پھر کرسی پر ، پھر میز پر وغیرہ وغیر ہ حتی کہ انتہائی صورت یہ ہے کہ پاؤں سر کے اوپر آجائیں ظاہر ہے ہم میں سے کوئی بھی ایسے نہ کر سکے گا۔ اور نہ ہی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ ڈنٹروں کو مشکل سے مشکل تر بنائے جانے کی بڑی صحیح منظر کشی ہے جس کے ذریعے مشکل یا مزاحمت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

(سٹ بیک بیٹھ کر پیچھے کی جانب جھکنا اور پلٹنا ) :- یہ ورزش پیٹ کی دیوار کے پٹھوں کو درست کرتی ہے۔ در حقیقت پیٹ کے پٹھوں کو کسی مفید ورزش میں استعمال کرنا مشکل ترین امر ہے کیونکہ یہ سہارا دینے والے پٹھے میں اور حرکت کے ساتھ پھیلنے اور سکڑنے کے لئے بنے ہی نہیں ہیں۔ وہ یکجان ہو کر بغیر بے سہارا دیتے ہیں ۔ اس لئے ان کی ورزش بھی اس طرح ہی ہونی چاہیے۔ جب بھی آپ روایتی ” بیٹھک لگاتے ہیں تو سرین کے دو لچکدار بڑے پٹھوں کو استعمال میں لاتے” کے پٹھے اس میں شریک ہی نہیں ہوتے۔ میں نے ایسی ورزش اور کی ٹھانی، جو اس مسئلے کو حل کر سکے۔ یعنی واقعا پیٹ کے پٹھوں کو کچھ حرکت دے سکے۔ اس کا ایک بڑا آسان حل سامنے آیا کہ بیٹھک کے عمل کو الٹا کر دیا جائے۔ یعنی فرش سے گھٹنوں پر زور دیکر اٹھنے کی بجائے اگر آپ گھٹنوں کو چھاتی سے لگا کر پیچھے کی جانب جائیں تو پیٹ کے پٹھے معمول کے مطابق رو بہ عمل ہوں گے۔ وہ یوں کہ جب جسم کو نیچے لے جایا جائے گا تو وہ اپنا اصل کردار یعنی سہارا دینے کا ، ادا کریں گے۔ جبکہ روایتی بیٹھک میں پیٹ کے پٹھوں کے لئے سریں کے بڑے پٹھوں کو شدت سے متحرک کئے بغیر کندھوں کو او پرلا ناممکن نہیں ہوتا۔

لٹا

عام خیال یہ ہے کہ بیٹھک کے دوران فرش سے اٹھتے ہوئے پیٹ کے پٹھے نرم پڑے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں اس سے سب سے زیادہ ورزش پانے والے پٹھوں یعنی سرین کے بڑے پچھوں کو واقعتا فائدہ کوئی نہیں ہوتا اور وہ غیر اہم بن کر رہ جاتے ہیں۔ جبکہ ہماری اس ورزش (نیٹ بیک) میں پیٹ کے پٹھوں کو شامل کئے بغیر پیچھے کی جانب جھکنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے کسی آلے کی حاجت نہیں بلکہ آپ صرف پیٹ کے پھوں کو انگلیوں سے چھو کر محسوس کر سکتے ہیں کہ جب وہ حرکت میں آتے ہیں تو سخت ہو جاتے ہیں اور جب غیر متحرک ہوں تو نزم پڑ جاتے ہیں۔ نسٹ بیک کو بیٹھک پر ایک نفسیاتی اور عملی برتری حاصل ہے۔ جس شخص کی فنس گھٹیا درجے کی ہے اس کے لئے بیٹھک لگانا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ اس مشکل کو ایک حد سے زیادہ کم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آپ کو فرش سے اوپر کی جانب اٹھنا ہی اُٹھنا ہے۔ جبکہ مسٹ نیک کو آپ حسب منشاء آسان یا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ آپ کتنا پیچھے کی طرف جا سکتے ہیں۔ جتنا بھی چلے جائیں ٹھیک ہے۔ بلحاظ شدت یہ درمیانے درجے کی ہونی چاہیے۔ جب آپ اتنا پیچھے کی جانب جھک جائیں کہ پلٹنا درمیانے درجے کی مشکل ہو تو ابتدا یہ آپ کے لئے بہت مناسب ہے۔ ایک اور بات کا خیال رکھیں کہ ہٹ بیک کے و در ان سانس مت روکیں بلکہ معمول کے مطابق سانس لیتے رہیں۔

طریقہ:- زمین یا فرش پر بیٹھ پاؤں فرنیچر یا کسی اور چیز میں دی گئی تصویر کے مطابق پھنسا لیں اور گھٹنوں کو پوری طرح خم دے کر چھاتی کے جتنا قریب لا سکتے ہیں لے آئیں۔ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پیٹ پر رکھ لیں تا کہ ورزش کے دوران آپ کو پٹھوں کی کیفیت معلوم ہوتی رہے۔ اس کے بعد پیچھے کی جانب اتنا جھکیں کہ پیٹ کے پٹھے درمیانے درجے تک سخت ہو جائیں ۔ ابتداء میں چند انچ تک نیچے جائیں اور پھر پلٹ آئیں۔ پھر پیچھے کی جانب جھکنا رفتہ رفتہ بڑھاتے جائیں حتی کہ آپ کو اس مقام کا اندازہ ہو جائے جہاں تک جا کر واپس پلٹنا درمیانے درجے کی ورزش بن جائے۔

آپ ایک بار پھر نوٹ کریں کہ جسم اپنی صلاحیت کا بہت صحیح تخمینہ رکھتا ہے۔ کسی دفعہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اتنا پیچھے کی جانب جھک جائیں کہ واپسی محال : وقتوں میں اپنے آپ کا فرش پر انا لیں ۔ اور دو بارہ ہاتھوں اور بازوؤں کا سہارا لیکر واپس شروخ والی حالت میں آجائیں ۔ اب آپ کو نہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ کہاں تک جا کر آپ درمیانے درجے کی محنت کر سکتے ہیں۔ بیت بیت آپ کی حالت بہتر ہوتی جائے گی آپ کو درمیانے درجے تک رہنے کے لئے مزید پینے کی جانب جھکتے جانا پڑے گا حتی کہ آپ کے کندھوں کی اطراف کے عضلات ہلکے سے فرش کو چھونے لگیں۔ اس ورزش کو آپ اس پوزیشن سے شروع کریں جس پر آپ پندرہ سے بیس سیکنڈ تیک رہ سکیں۔

پیٹ کے پٹھے آخری چند سیکنڈوں کے دوران کا پنپنے لگتے ہیں۔ ان چند سکینڈوں کے دورانئے کو بڑھا کر 20 سیکنڈ تک لائیں۔ پھر اس سے زیادہ نیچے کو جھکیں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے آپ کی کمر فرش کو چھونے لگے اور آپ یہ پوزیشن 20 سیکنڈ یا اس سے زائد وقت تک برقرار رکھ سکیں تو لوڈ یا شدت بڑھانے کے لئے اپنے بازوؤں کو حرکت میں لا ئیں ۔ اب تک آپ انہیں پیٹ پر انگلی جانب رکھتے ہوئے تھے لیکن اب انہیں چھاتی پر لیجائیں تاکہ مزاحمت میں اضافہ ہو اور سٹ بیک لگانے میں دشواری پیش آے۔ یہ ہلکی سی تبدیلی آپ کو پھر 15 سیکنڈ فی سیٹ کی پوزیشن پر واپس لے جائے گی ۔ اور آپ کو چند روز تک مزید گہرے سٹ بیک لگانے پڑیں گے ۔ اس سے اگلے درجے میں آپ بازوؤں کو ایک دوسرے میں اپنا کر سینے پر رکھیں۔ جب اس پوزیشن میں مہارت حاصل ہو جائے تو ہا تھوں کو سر کے پیچھے لے جائیں اور آخر میں سر کے اوپر رکھ کر ریسٹ بیک لگائیں لیکن ایک احتیاط ملحوظ خاطر رکھیں کہ بازوؤں کو لہرائیں مت۔ انکو سر کے اوپر صرف اس مطلب کیلئے لایا گیا ہے کہ واپس لیٹنا مشکل ہو جائے نہ کہ ان سے حرکت کی قوت میں اضافہ مقصود ہے۔ ویسے ورزش کو مشکل بنانے میں آپ کو کوئی انعام تو نہیں ملتا۔ اس سے صرف اپنی ضرورت کے مطابق رد و بدل میں آسانی رہتی ہے۔

اہم بات :-

پٹھے مضبوط کرنے والی دونوں ورزشوں کا ایک ایک سیٹ لگانے کے بعد اپنی نبض کو دیکھیں ۔ اور خاص خیال رکھیں کہ وہ مطلوبہ رفتار ( پچھلے صفحات پر دیے گئے فارمولے کے مطابق) سے زیادہ تو نہیں ۔ اگر ہے تو ورزش کو موقوف کر کے ذرا ستالیں۔ کچھ ہفتوں کی ورزش کے بعد دوسری ورزشوں کے نتیجے میں جو مضبوط بنانے کے لئے کی جائیں گی ، آپ کی رفتار نبض کم ہو جائے گی ۔ پہلے 8 ہفتوں کے لئے جو ہدف مقرر کیا ہے، اس سے آگے نکنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کا اندرونی کمپیوٹر یعنی نبض آپ کے لئے اس ہدف کو حاصل کرنا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل تر بناتا جائے گا۔ اب آپ پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشوں کے سیٹ کا ترتیب کے مطابق اعادہ کریں اور پھر اپنی نیض کو غور سے جانچیں ۔ جب آپ بٹ بیک کا دوسرا سیٹ لگائیں گے تو 20 سیکنڈ تک اپنی پوزیشن قائم رکھنے کے قابل نہ ہوں گے۔ یہی کورس کا طرہ امتیاز ہے جب تک آپ کوئی ورزش جاری رکھ سکتے ہیں، رکھیں ۔ پھر پہلے سیٹ میں صرف کئے گئے وقت میں اضافہ کریں۔ ان دوسیٹوں کو لگانے میں عموماً 4 منٹ صرف ہوتے ہیں بقیہ 5 منٹ دل اور پھیپھڑوں کی قوت برداشت بڑھانے میں لگائیں۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page