فاقہ کشی کے بھیانک نتائج

زیادہ عرصہ نہیں ہوا میرے ایک دوست کی بیوی نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنا وزن 15 پاؤنڈ کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنا مقصد جلد از جلد حاصل کرنے کے لئے کا کھان پیا بالکل کم کر دیا اور صرف طاقت کی ان گولیوں پر تکیہ کر لیا جو اس کو ڈاکٹر نے وزن کم کرنے کی پہلی ایک کوشش کے دوران تجویز کی تھیں۔

پہلے ہی دن وزن کی مشین نے 4 پاؤنڈ کی کمی دکھائی۔ اگلے دن 2 پاؤنڈ کم ہوئے ۔ اس کے بعد روزانہ ا سے دو پاؤنڈ تک کم ہوا۔ اور دسویں دن تک 12 پاؤنڈ وزن گھٹ گیا۔ وہ بڑی خوش ہوئی اور اسی روز اپنے خاوند کے ساتھ ٹینس کھیلنے نکل پڑی۔ لیکن صرف آدھ گھنٹہ ہی کھیل پائی۔ لہذا دونوں میاں بیوی نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ راستے میں اس کا منہ سرخ ہو گیا۔ پھر اسے چھینکیں آنی شروع ہوئیں اور فلو کی سی علامات نے برا حال کر ڈالا۔ یہ فاقہ کشی اور پیاسے رہنے کے ناخوشگوار نتائج تھے۔

اگر آپ کا جسم اس کا تادیر متحمل ہو سکے تو بھوکے پیاسے رہ کر وزن کم تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ خلاف فطرت ہے۔ کچھ لوگ ایک یا دو روز تک بغیر تکلیف کے صرف پانی پر گزارہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ ایسے لوگ جن کا نشاستہ دار غذاؤں کو جزو بدن بنانے کا عمل نسبتا تیز ہوتو و 120 گھنٹے تک بغیر کھائے پئے بڑی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی منطقی وزن کم کرنے کے پروگرام میں خوراک کی کمی کے ساتھ ساتھ ورزش کے ذریعہ جسم کی چربی کو خوراک کے طور پر خرچ کرنا، اصل ہدف ہونا چاہیے۔ خوراک میں کمی اگر اس طرح کی جائے کہ تو ازن خوراک متاثر نہ ہو تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اہم اجزائے خوراک جو سے متوازن بناتے ہیں، ان کو یکسر چھوڑ دینے سے بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ مثلاً نشاستہ دار غذا ترک کرنے سے آپ کی نہ صرف چربی پچھلنے لگتی ہے بلکہ ساتھ ہی خون اور پٹھے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ اور اگر آپ کچھ عرصہ مزید اسی طرح گزار دیتے ہیں، جیسا کہ میرے دوست کی بیوی نے کیا تو آپ کے جسم کا تمام نشاستہ دار مواد ضائع بھی ہوسکتا ہے اور جسم کو معمول کے فرائض سر انجام دینے کے لئے لحمیات اور چربی کے سوا اور کچھ باقی ہی نہیں رہتا جو خطرناک ہے اور آپ کو بیمار کرنے کے لئے کافی ہے۔

اسی طرح گو لحمیات کو بلاشبہ جسم کی تعمیر میں اولین درجہ حاصل ہے لیکن بطور ایندھن ایسا نہیں ہے۔ ایندھن کا کام تو چربی اور نشاستہ دار اغذیہ ہی کرتی ہیں ۔ لہذا کوئی بھی ایسا پروگرام جس میں توانائی کے لئے صرف لحمیات پر انحصار کر لیا جائے ، جسم کے بنیادی تارد پود کو منتشر کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ کم نشاستہ دار خوارک کا طویل عرصے تک استعمال جسم کو غیر فطری طور پر لحمیات کو نشاستہ دار خوراک میں تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جو یقیناً پریشان کن صورتحال ہے۔ خوراک کو جزو بدن بنانے کے عمل میں تین عناصر یعنی لحمیات، چربی اور نشاستہ دار اشیاء کو کلیدی حیثیت کا امتیاز حاصل ہے۔ اس علم کے دو اجزا ہیں۔ (1) تعمیر۔ (2)ٹوٹ پھوٹ 

(1) تعمیر : جسم میں رگ دریشے کی خاصی مستقل رفتار سے مسلسل ساخت کا عمل ہے۔

(2) ٹوٹ پھوٹ :- خوراک کے قابل ہضم مادوں میں تبدیل ہونے اور جسمانی رگ و ریشے کی مرمت کا مستقل طور پر معمول کی رفتار سے جاری رہنے کے عمل کو کہتے ہیں ۔

اگر یہ دونوں عمل ایک توازن سے جاری رہتے ہیں تو آپ کے جسم کی ساخت یکساں اورمستحکم رہتی ہے۔ شدید مشقت اور فاقہ کشی سے آپ ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں لیکن تعمیر کے عمل کو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی خوراک میں لحمیات کے با افراط ہونے کے باوجود جسم میں لحمیات کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بکثرت خوراک اور طویل آرام سے بھی تعمیر کےعمل میں خاطر خواہ تیزی نہیں آتی بلکہ وہ اپنی معمول کی رفتار سے ہی جاری رہتا ہے۔ ہمارا مقصد جسم کو اس کی معمول کی حالت میں برقرار رکھتا ہے۔ زیادہ خوراک اور زیادہ جسمانی نقل و حرکت کی نسبت زیادہ آرام کرنے سے چربی کی مقدار میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہم آپ کی خوراک میں تھوڑے سے رد بدل اور ورزش کو ہلکا سا بڑھا کر تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو جاری و ساری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کا بس ایک ہی طریقہ ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page