راتوں رات فٹ بنانے والا پروگرام، کوئی نہیں

 ایسے کسی پروگرام کی توقع ہی عبث ہے۔ ایسے چکروں میں نہ پڑیں ۔ بلاشبہ آپ فٹ بن سکتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ ! البتہ فوری طور پر پہلے کی نسبت قدرے بہتر ہو سکتے ہیں اور چند مہینوں میں بہت بہتر نظر آسکتے ہیں

ورزش ایک خوشگوار عمل ہونا چاہیے جو ہر بار پہلے سے اچھا اور تازگی بخش محسوس ہو۔ بدقسمتی سے ایسے پروگراموں کی بھرمار ہے جو تارے تو زانے کے دعویدار ہیں مثلاً روزانہ ایک پاؤ نڈ یا ہفتے میں سات، پاؤنڈ وزن گھٹا ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس کیلئے آپ کو تقریبا فاقہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سات تو کجا، ہفتے میں دو پاؤنڈ وزن کم کرنا بھی غیر انسانی اور غیر قدرتی فعل ہے۔ اس کیلئے خوراک کو اتنا قلیل کرنا پڑتا ہے کہ آپ بیمار بھی پڑ سکتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ دو پونڈ جو کم ہوں گے ان کا دوبارہ بڑھ جانا یقینی ہے۔

کرداری علوم نے ہمیں بتایا ہے کہ لوگ پرانی عادتیں اور رہن سہن کا انداز تبدیل کرنے کیلئے آسانی سے تیار ہی نہیں ہوتے ۔ مثلاً کسی بڑے شہر میں بنکاری کرنے والے کیلئے کھیت میں مزدوری کا کام کرنا ممکن نہیں ۔ بلکہ شاید کوئی بھی ایسا نہ کر سکے ۔ اسی طرح کسی بلا کے سگریٹ نوش سے آپ اسکا زیادہ سے زیادہ برانڈ تو تبدیل کروا سکتے ہیں لیکن آپ کسی سےسگریٹ نوشی یکسر ترک نہیں کروا سکتے ۔ اس لئے آپ کو فٹنس پروگرام میں بھی حقیقت پسند ہونا ہوگا۔ کسی تربیت یافتہ ایتھلیٹ کی سی جسمانی طاقت اور قوت برداشت پیدا کرنے کیلئے آپ کو روزانہ دو گھنٹے کی ورزش کرنی پڑے گی۔ ظاہر ہے یہ ایک غیر حقیقی خواہش ہے جس کیلئے نہ تو آپ کے پاس وقت تحمل اور رجحان ہے اور نہ ہی آپ کو اس کی ضرورت ہے ۔ آپ اس سے بہت کم ورزش کر کے بھی فٹ بن سکتے ہیں۔

: مقابلے کی تیاری نہیں کر رہے

ایک دن مجھے ورزش کرتے ہوئے دیکھ کر میرا ایک دوست کہنے لگا ” یہ میں نہیں کر سکتا، میں نے کہا ” مجھ سے اپنا مقابلہ مت کروفٹ ہونے کا مطلب کسی سے مسابقت یا مقابلہ نہیں ہوتا حتی کہ اپنے آپ سے بھی نہیں در حقیقت آپ کسی سے زیادہ وزن اٹھانے کی کوشش نہیں کر رہے۔ آپ کا مدعا 200 پاؤنڈ وزن اٹھانا یا چھ منٹ میں ایک میل دوڑنا نہیں ۔ یہ اس تھیلیوں کا کام ہے آپ کا نہیں۔ ایتھلیٹ کے لغوی معنی ” شکست دینے والا کے ہیں۔ جبکہ فٹنس پروگرام میں کسی کو شکست دینا مقصود ہی نہیں ۔ بلکہ آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ میرا اپنا پروگرام ہے جسے میں گھر کے کسی کمرے میں تنہا کروں گا ۔ اگر میں نہ چاہوں تو کسی کو اس کے بارے میں پتہ بھی نہ چلے اور دنیا میں اس جیسا مفید کوئی اور پروگرام ہے ہی نہیں ۔ ورزش میں کوئی ایسی حرکات و سکنات نہیں ہونا چاہیں جن سے آپ کو نفرت ہو۔ اگر کسی کو جو گنگ پسند ہے تو ایسے دس ہزار لوگ ہوں گے جنہیں یہ سرے سے پسند ہی نہیں۔ عجیب وغریب لباس پہن کر اس حالت میں باہر نکلنا کہ لوگ گھور گھور کے دیکھیں، کسے پسند ہوگا۔

جسمانی ورزش ایک شاندار کام ہے۔ آپ کی ہر حرکت میں وقار اور ہم آہنگی ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو جسم اکڑانا پڑے تو سکون سے کر نہیں۔ اور چلیں تو بھلے لگیں بلکہ یوں کہیں که رقص اور ورزش دونوں ایک جیسے ہی ہیں۔ دونوں میں ہر ایک حرکت آپ کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے۔ ورزش میں جسمانی آگہی کا شعور ، پنوں کی عضلاتی ہم آہنگی سے توانائی پاتا ہے ۔ آپ کی ہر حرکت میں روانی اور ترتیب ہونا چاہیے ناکہ فوجیوں کی طرح گفتی کے سخت پابند ہونے کا گمان پیدا ہو۔

فوجی ورزش کے دو مقاصد ہوتے ہیں ۔ ایک طبعی یا مادی تربیت ، دوسرا فعلیاتی اصلاح جیسے ان کا لباس ایک ہوتا ہے ویسے ہی ورزش بھی ایک سی ہونی چاہیے ۔ تمام سپاہیوں کی نقل و حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے خواہ کسی کیلئے مشکل ہو یا آسمان ۔ جب سب ایک ہی طرح حرکت کرتے ہیں تو کمزور یا تو بالکل ٹھس ہو جاتے ہیں یا پھر مضبوط اور سڈول ہو جاتے ہیں۔ جبکہ تگڑے قدرے کمزور پڑ جاتے ہیں اسطرح مجموعی طور پر سب درمیانے درجے کی فٹنس والے بن جاتے ہیں ۔

بیشتر ورزشیں فوجی انگ لئے نظر آتی ہیں اور جمناسٹک بھی اسی طرح ہے جو سویڈن اور جرمنی سے زرعی کارکنوں کو صحتمند بنا کر فوجی ملازمت میں لانے کیلئے شروع ہوئی تھیں۔ لیکن چونکہ انکا کام بنیادی طور پر کھیتوں میں ہوتا تھا تو ان کے معمولات زرعی آلات کے گرد گھومتے تھے۔ آج کل کی جمناسٹک ابھی تک جرمن طرز پر استوار ہیں ۔ جس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جمناسٹک کرنے والا ایک فوجی سپاہی کیطرح سیدھا اور بے لچک ہونا چاہیے اور جب ورزش ختم کر کے زمین پر آئے تو بالکل توازن میں رہے۔

جب بھی کوئی آپ کو ورزش کیلئے کہے تو آپ سوچتے ہیں کہ اسے اچھی طرح کیا جائے۔ جس میں لچک کی کوئی گنجائش نہ ہو اور پورے سلیقے سے کی جائے یہ ورزش کے بارے میں عام غلط تاثر کی مثال ہے جسمیں زور اس پر ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں نہ کہ اس پر کہ اندرونی طور پر آپ پر اسکا کیا اثر ہو رہا ہے۔ جبکہ اندرونی اثر ہی اصل میں اہم ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ اگر آپ جمناسٹک کے مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے ہیں تو آپ کو ضابطے کا پابند ہونا پڑے گا تا کہ اس کے مطابق آپ کو نمبر دئیے جاسکیں ۔ لیکن اگر آپ اپنے کمرے میں ورزش کر رہے ہیں تو آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ دل کی دھڑکن ذرا تیز ہو جائے اور جسم پر اکثر اولا کر اپنے پٹھوں کی کارکردگی بہتر بنالیں ۔ یہاں کسی نے آپ کو نمبر تو دینے نہیں ہیں کہ آپ کیسے نظر آتے ہیں یا آپ نے کوئی خاص ورزش کتنی بار کی ہے اور کتنی صحیح کی ہے۔ اور آپ سٹاپ واچ سے ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ گھڑی کی حرکت سے زیادہ اہم آپ کے دل کی دھڑکن ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page