خوراک کی متوازن مقدار کیا هے ؟

ایک حدیث پاک میں فرمایا گیا، مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافرسات آنتوں سے کھاتا ہے۔ مزید فرمایا کمر کو سیدھار کھنے کیلئے ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں اگر لازماً کھانا ہی پڑے تو معدہ میں ایک تہائی کھانا، ایک تہائی پانی اور ایک حصہ (ہوا) سانس کیلئے خالی رکھو۔

ذکورہ بالا حدیث مبارک خوراک کی متوازن مقدار کی طرف اشارہ کرتی ہے یاد رکھئے معدہ میں پانی ، غذا اور رطوبتوں کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بنتی ہے اور یہ معدہ کے اوپر والے حصہ میں آجاتی ہے اگر معدہ کے اس حصے کو بھی خوراک سے بھر دیا جائے تو گیس کیلئے جگہ نہ ہوگی یعمل معدہ کی بہت سی بیمایوں کا باعث اور سانس میں دشواری پیدا کرتا ہے۔ ایک فلسفی کے سامنے جب مذکورہ بالا حدیث کا ذکر کیا تو کہنے لگا اس سے بہتر اور مضبوط بات آج تک نہیں سنی۔ چھاچھ دہی اور چھاچھ میں ایسے جراثیم ہیں جن کی طبعی خاصیت یہ ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے جنگ کر کے انہیں مغلوب کر لیتے ہیں۔ اس لئے امراض کا مقابلہ کرنے کیلئے چھاچھ بہترین چیز ہے۔

غذائی اجزاء اور وٹامنز 

چھا چھ میں چکنائی کے سوا دودھ کے تمام غذائی اجزاء موجود ہیں، چھاچھ میں بھی اجزاء نشاستہ دار اور شکر ہے۔ اجزاء چونا ، فاسفورس فولاد کے علاوہ حیا تین الف، ب اور دہوتا ہے۔ گو باطبی نقطہ نگاہ سے چھاچھ بڑی مفید اور جامع غذا ہے۔

طبی فوائد اور استعمال 

کی بدن میں چونے کی کمی دور کرتی ہے۔ یہ پیاس بجھاتی دل اور جگر کی گرمی اور یرقان میں موثر ہے۔ اس کے استعمال سے سینہ، معدہ اور پیشاب کی جلن دور ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں کے معدے کمزور ہوں اور وہ چکنائی ہضم نہیں کر سکتے نہیں چھاچھ استعمال کرنی چاہئے۔

بے قاعدہ طور پر بار بار کی چیزیں کھا جانے سے وہ اچھی طرح ہضم نہیں ہوتیں اور ان کا غیر منضم حصہ آنتوں میں سڑنے لگتا ہے لیکن چھاچھ کے پینے سے آنتوں میں خون کا دورہ تیزی سے ہونے لگتا ہے اور وہ تمام غلیظ اور مضر مادوں سے صاف ہو جاتی ہے۔ چھاچھ سے رطوبت ہاضمہ زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اسلئے قوت ہاضمہ بڑھ جاتی ہے اور اسکے استعمال سے بدن قوی اور مضبوط ہو جاتا ہے چھاچھ سے آلات بول و براز کے افعال کو طاقت ملتی ہے۔ غذا ہر وقت ہضم ہوتی ہے اور فضلات با قاعدہ خارج ہوتے ہیں۔ فرانس کے ڈاکٹر چین نے تجربات سے ثابت کیا ہے کہ چھاچھ کے استعمال سے بڑھاپا جلد نہیں آتا۔ جسم کی پرورش کرنے کیلئے چھا چھ اعلیٰ درجے کی غذا ہے۔ تازہ اور میٹھی چھاچھ پینے سے آنتوں میں زہر پیدا کرنے والے جراثیم فورا ہلاک ہو جاتے ہیں اور قوت ہاضمہ میں اضافہ ہوتا ہے۔

چھاچھ میں لیٹک ایسڈ کی موجودگی کے باعث پیٹ میں گیس پیدا کرنے والے جراثیم پر اس کا نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ اس میں گوشت پیدا کرنے والے پروٹین کے نہایت لطیف ذرات ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ دیگر اشیاء کی طرح ہضم ہونے میں کفیل نہیں ہوتی۔ یہ پروٹین بہت جلد ہضم ہو جاتا ہے اور دوسری اشیاء کو بھی معظم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے قتیل اور نا قابل ہضم غذاؤں کے ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے جن کو معدہ چھاچھ کی امداد کے بغیر ہضم کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ چھاچھ کی تاثیر سرد تر ہوتی ہے جس چھاچھ کو اچھی طرح بلوکر مکھن نکال لیا جائے وہ ہلکی، زود ہضم اور طاقت بخش ہوتی ہے جس چھا چھ سے مکھن نہ نکالا جائے وہ دیر ہضم اور تیل ہوتی ہے البتہ جسم کو فربہ کرتی ہے۔ مکھن نکالی ہوئی کسی جس میں دہی سے ایک تہائی یا چوتھائی پانی ڈالا گیا ہو مینا کمزور ہاضمہ والوں کیلئے مفید ہے جن کو اکثر زکام کی شکایت رہتی ہو، کمر یا جوڑوں میں درد ہو، نیند زیادہ آتی ہو یا کبھی بھی بخار آ جاتا ہو انہیں لسی پینے سے پر ہیز لازم ہے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page