خلا بازوں کا پروگرام اور آپ

گو ہمارے حالات خلابازوں سے مختلف ہیں لیکن ورزش کی ضرورت یکساں ہے۔ دونوں کو فٹ رہنے کے لئے زائد فعالیت چاہیے اور خلا بازوں نے جس طریقے سے بالکل صحیح مقدار میں پوری ورزش کی یہی روش زمین پر رہتے ہوئے بھی اپنائی جاسکتی ہے۔

ایک خاص رفتار قلب پرورزش کر کے ایک عام آدمی یا خلا باز ، دونوں اپنے آپ کو مطلوبہ فٹنس کی سطح پر برقرار رکھ سکتے ہیں۔ جسمانی فعالیت کے روزمرہ معمول میں کسی تبدیلی کے مطابق ورزش کو بھی اسی طرح بدلنا ضروری ہے۔ جب آپ تھکے ہوئے یا بیمار ہوں تو ذراسی حرکت سے ہی دل تیز تیز دھڑ کنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ جتنے کمزور ہوں گے ، دل کی دھڑکن تیز کرنے کے لئے اتنی ہی کم حرکت درکار ہوگی۔

ورزش کے پرانے طریقوں میں آپ کو کوئی خاص حرکت ایک خاص تعداد میں کرنی پڑتی تھی۔ اور ان میں ورزش کرتے وقت آپ کی موجودہ جسمانی کیفیت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہمارا جدید طریقہ اس معاملے میں اپنا اندرونی کمپیوٹر یعنی نبض استعمال کر کے خود بخود مناسب ترمیم کر لیتا ہے۔ جس دن آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو مطلو به رفتار قلب حاصل کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ سو اگر آپ دل کو 130 دھڑکن فی منٹ کے حساب سے 5 منٹ تک دھڑ کا نا چاہتے ہیں تو آپ اس کے مطابق ہی ورزش کرتے ہیں اور جب آپ تربیت شروع کرتے ہیں تو آپ کو اور زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے جسمانی کوشش اور کام ایک ہی چیز ہیں لیکن ورزش کےماہر کے لئے نہیں۔

کوشش: وہ توانائی ہے جو آپ صرف کرتے ہیں۔ کام: وہ : سمانی عمل ہے جو کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے کام کی پیمائش قوت اور حرکت ( جو قوت پیدا کرتی ہے) سے ہوتی ہے۔ جسمانی کوشش ایک انسان کا اوور تکمیل ہے جو اندرونی نظاموں مثال خوراک کو جزو بدن بنانے کا نظام سائنس کی آمد ورفت اور دوران خون پر کسی حرکت یا کام کے دوران مرتب ہوتا ہے۔ اس کی چند مثالیں ملا حظہ ہواں۔ جب آپ سائیکل چلارہے ہیں تو مجھے نظر آرہا ہوتا ہے کہ آپ کتنا کام کر رہے ہیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس دوران آپ کی کتنی توانائی صرف ہورہی ہے ۔ جب میں ایک دل کے میٹر یا نبض کو چیک کرتا ہوں تو مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کتنی توانائی خرچ کر رہے ہیں لیکن اس کا پتہ نہیں چلتا کہ کام کرنا ہورہا ہے۔ میرے نفس پروگرام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ کام کتنا ہو رہا ہے۔ مجھے تو بس اس سے غرض ہے کہ آپ کے دل کی رفتار کیا ہے۔

اگر آپ کسی گرم دن میں ورزش کر رہے ہیں تو آپ کے جسم میں گرمی اور حرارت بڑھ رہی ہوتی ہے اور آپ کو یہ ورزش جاری رکھنے کے لئے مشکل کا سامنا ہوگا۔ کیونکہ کوشش زیادہ کرنا پڑے گی۔ آپ کا اندورنی کمپیوٹر ان دونوں ضرورتوں کو جمع کر لیتا ہے۔ تو ایک گرم دن میں تھوڑے کام سے نسبتا زیادہ کسرت اور فتنس حاصل ہو جائے گی لیکن یہ بدن ٹھنڈا رہنے کے مقابلے میں بہتر نہ ہوگی) یادر ہے کہ جب آپ کو ثانوی دلوں یعنی میں کلی پٹھوں سے مدد نہ مل رہی ہو تو دل کو اکیلے ہی سارا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

خلابازوں کی صحت اور فٹنس محفوظ رکھنے کے لئے تکنیک ایجاد کرتے وقت مجھے نئی باتیں معلوم ہوئی تھیں۔ اب ان کے عملی استعمال کا مرحلہ جلد آنے والا تھا۔ جبکہ یوالیس پبلک ہیلتھ سروس کے سربراہ ڈاکٹر فوکس کی باتیں بھی وزن رکھتی تھیں۔ لہذا مجھے یقین ہو گیا کہ جو کچھ خلا باز فٹ رہنے کے لئے کرتے ہیں، عام انسان وہی کچھ کر کے قلب وشرائین کی بیماری سے بچ سکتا ہے۔

جو پروگرام میں نے ڈاکٹر فوکس کی ترغیب سے تشکیل دیا اسی وقت سے اس کے بہت سے مداح موجود ہیں جن میں لاس اینجیر ضلع کے منصف صاحبان، YMCA کے امریکہ بھر میں ممبر ، سمندر میں جان بچانے والے، آگ بجھانے والوں کے علاوہ تقریبا پورے ملک کی خواتین شامل ہیں جو اپنی صحت اور جسمانی دلکشی قائم رکھنے کے لئے اس پر عمل پیرا ہیں۔ وہ سب یہ جانتے ہیں کہ قابل غور آپ کی جسمانی کار کردگی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنی آسانی سے وہ کار کر دگی انجام دیتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی سے دنگا فساد، مقابلتا زیادہ وزن اٹھانا یا زیادہ تیز دوڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف فٹ رہنا چاہتے ہیں اور اپنا ذہن بظاہر کار کردگی کی بجائے اندورنی نظام کی مضبوطی اور بہتری پر مرکوز رکھتے ہیں۔ اگر آپ کا بنیادی ہدف بہتر کارکردگی والا اندورونی نظام یعنی بہتر دل، پھیپڑے، خون کی نالیاں, مضبوط تر پیچھے اور ہڈیاں ہے تو بصد شوق تمام تر توجہ اور دھیان اس پر لگائے رکھیے نہ کہ اس پر کہ ہڈیاں اور پٹھے کتنا وزن اٹھا سکتے ہیں یا یہ کہ دل اور پٹھے آپکو کتنے میں تک دوڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ ایتھلیٹ نہیں ہیں تو کسی کو اس سے کیا غرض و غائت ہو سکتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا تا پھرے کہ آپ کتنا تیز دوڑ سکتے ہیں ۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اندورنی نظام بہتر اور جسمانی معیار اچھا ہوتا کہ آپ ایک کامیاب اور پر سکون زندگی گزار سکیں۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page