“جسمانی حرکت اور حرارے”

اب ذرا پانچویں ضرورت پر بھی بات ہو جائے۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جسمانی زوال سے محفوظ رہنے کے لئے تین سو حراروں کے برابر جسمانی حرکت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمارا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کس سے زیادہ تین سو؟

آئیے سب سے پہلے ہم اساسی مادہ حیات کی شرح کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اصل میں یہ وہ کم سے کم توانائی ہے جو وجود حیات کو قائم رکھنے کے لئے ناگریز ہے اور اس کی روزانہ مقدار 1500 حرارے ہے۔ خواہ آپ کچھ کریں یا نہ کریں، محض جسم کے بنیادی افعال مثلا دل کا دھڑکنا سانس لیتا، غذا کو ہضم کرنا اور جسم کی حرارت برقرار رکھنے میں 1500 حرارے روزانہ خرچ ہو جاتے ہیں۔

فرض کریں آپ ایک انتہائی غیر متحرک زندگی گزار رہے ہیں۔ دیر سے جاگتے تا میں، بنابنایا اشتیل جاتا ہے ، دوپہر کے کھانے تک اخبار پڑھتے اور ٹی وی دیکھتے ہیں۔ پھر ایک سینڈ وچ اور دودھ کے گلاس کے ساتھ کچھ پھل کھاتے ہیں اور اس کے بعد سو جاتے ہیں۔ سہ پہر کو ڈا کیا جو ڈاک دے جاتا ہے، نیند سے بیدار ہو کر اسے دیکھتے ہیں۔ پھر رات کے کھانے تک ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں اور کھانا بھی وہیں ٹی وی کے سامنے بیٹھے بیٹھے کھا ڈالتے ہیں اور سونے کے وقت تک اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھ کر دس گھنٹے کے لئے سو جاتے ہیں۔ اور ایسے کئی لوگ ہوں گے جو چالیس سال سے زائد عمر میں اسی طرح کا معمول حیات اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سستی اور کاہلی کا نتیجہ سوائے مختلف بیماریوں کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ حتی کہ ان کے جسم میں اساسی مادہ حیات سے 500 حرارے زیادہ تک جمع ہو جاتے میں پھر بھی انہیں ورزش کا خیال نہیں آتا ۔

جبکہ دفتروں میں کام کرنے والے لوگ جو اپنی ملازمت کے مقام تک سواری میں آتے ہیں۔ اوپر کی منزل تک جانے کے لئے لفٹ استعمال کرتے ہیں اور پھر سارا دن بیٹھے رہتے ہیں 800 فالتو حرارے خرچ کر ڈالتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ جسمانی زوال میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ ان کے دل کی حرکت تیز نہیں ہو پاتی۔ وہ کوئی زائد وزن نہیں اٹھاتے ، اپنے پاؤں پر بھی 2 گھنٹے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے نہ ہی اپنے جوڑوں کو حرکت دینے میں ۔ اسی طرح جسمانی حرکت کے ذریعے 300 حرارے بھی خرچ نہیں کر پاتے۔ لیکن دیکھیں وہ حراروں کے صحیح توازن کے کس قدر قریب ہیں کہ کسی قابل ذکر جسمانی نقل و حرکت کے بغیر 2300 حرارے خرچ کر رہے ہیں۔

اگر وہ 2300 سے بڑھا کر 2600 حرارے روزانہ خرچ کرنا شروع کردیں تو آہستہ آہستہ در آتے ہوٹا پے کو روک لینے کے باوجود انہیں ورزش کی ضرورت ہوگی ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ورزش کئے بغیر آپ 300 حرارے کیسے جلا سکتے ہیں؟ اس کا بڑا ہی سادہ طریقہ یہ ہے کہ اپنے اسلوب حیات میں ہلکی سی تبدیلی لا کر تھوڑے سے متحرک انسان بن جائیں۔ حرارے ایسی ورزشوں سے جلتے ہیں جو آپ کی نبض کو 100 فی منٹ سے زیادہ کر سکیں۔

اگر آپ ایک غیر متحرک زندگی گزار رہے ہیں تو کوئی بھی ایسی جسمانی حرکت جو بحالت آرام، آپ کی دل کی دھڑکن میں 20 دھڑکنوں کا اضافہ کر دے وہ آپ کے مادہ حیات کی شرح میں اضافے کا سبب بھی بن جائے گا۔ نے کوئی وزن اٹھانے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے، کسی بلندی چڑھنے یا جنسی عمل سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ حتی کہ عام سی حرکات و سکنات کو معمول کی نسبت ذرا شدت کے ساتھ سرانجام دینے میں بھی یہی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔

تین سو حرارے خرچ کرنے کا مطلب ہے روزانہ تین میں چلنا لیکن اس سے مسلسل چلنا مراد نہیں۔ بلکہ وقفے وقفے سے، دن بھر میں، مجموعی طور پر اتنا فاصلہ طے کر لینا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ خواہ آپ آٹھ منٹ میں ایک میل جو گنگ کر لیں یا 20 منٹ میں چل کر طے کر لیں۔ دونوں صورتوں میں چلنے والے حراروں کی مقدار یکساں ہوگی ۔ اس طرح بازار سے خرید و فروخت کرنا بھی چلنے کے زمرے میں آتا ہے اس لئے جو شخص بھی گھر کے لئے سودا سلف خرید نے جاتا ہے وہ تراروں کی ضروری مقدار جلالیتا ہے۔ اگر آپ ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت میں 300 حرارے جلانا چاہتے ہیں تو ٹینس کھیل لیں ، باغ میں کھدائی کرلیں یا لکڑی کاٹ لیں وغیرہ وغیرہ۔ صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایک ایسی ورزش کرنا جس سے 300 حرارے جل جائیں عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ سارے دن کی مجموعی نقل و حرکت سے 300 حرار ہے جلائے جائیں۔ جس کے لئے آپ کو بس اتنا کرنا ہوگا کہ جسم کو انگڑائی کی طرح کھچاؤ دیں، کھڑے ہوں، کوئی چیز اٹھا کر تیزی سے چلیں تو 300 حرارے خرچ ہو جائیں گے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page