اپنے آپ سے پوچھیئے کہ آپ کون ہیں

فٹنس پروگرام شروع کرنے سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کون ہیں یعنی کیا کام کرتے ہیں کیونکہ ایک مصنف ، شوہر ، باپ ، سکیٹنگ ( برف پر پھسلنا) کرنے والے اور ٹینس کے کھلاڑی کو الگ الگ اور مخصوص پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ ان میں سے کسی کو بھی انتہائی درجے کی کارکردگی کیلئے نہیں تیار کیا جاتا ۔ بلکہ مدعا یہ ہوتا ہے کہ آپ جو کچھ بھی کرتے ہیں اس کیلئے آپ کو مکمل طور پر فٹ بنا دیا جائے۔

اگر آپ ٹینس یا برف پھسلنے کے کھلاڑی نہیں ہیں تو آپ کو انکی سطح کے مساوی فٹنس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ انکو پٹھوں، دل اور پھیپھڑوں کی اعلیٰ درجے کی کار کردگی چاہیے ہوتی ہے۔ فٹنس کیلئے تربیت کو اگر ایک تراز و سمجھ لیا جائے تو اس کے ایک پلڑے میں جسمانی اصلاح اور دوسرے میں ایتھلیٹ جیسی کار کردگی پڑی نظر آئے گی ۔ دونوں کیلئے بنیادی اصول ایک ہی ہیں لیکن طریقے ذرا مختلف ہیں۔ جسمانی اصلاح میں پٹھوں کی ٹوٹ پھوٹ ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ اس کیلئے پٹھوں کو بڑا کرنا پہلا ہدف ہے۔ تا کہ خاطر خواہ مقدارمیں رگ وریشے (بافت) دستیاب ہو سکیں کیونکہ اس کے بغیر پٹھوں کو بڑا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے مریض کو اپنی تگ و دو اسطرح بڑھانے کی طرف لایا جائے کہ تمام پٹھوں کی غیر شعوری طور پر کسرت ہوتی جائے ۔

اس علاج کا اصل نشانہ ان پٹھوں کو متحرک کرنا ہے جو اب تک خوابیدہ ہیں جب مندی اپنی ٹانگ کو اٹھانے کیلئے صرف ٹانگ کا ایک چٹھہ استعمال کرنے کی بجائے پورے جسم کو بروے کار لائے تو سمجھیں اس کا اصل منزل کی طرف سفر شروع ہو گیا ۔ ایتھلیٹ جیسی کارکردگی حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان آخری ایک دو سیکنڈ تک تازہ دم رہا جائے جہاں زور لگا کر چمپئین بنا جاتا ہے۔ یہی وہ اعلیٰ ترین کوشش ہوتی ہے جو ذرا سا فرق ڈال کر آپ کو کامیابی دلاتی ہے۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی جسمانی ٹریننگ کے پروگرام میں کام نہیں آتی اس لئے نہ میں کبھی ایتھلیٹ کو اس طرح ٹریننگ نہیں دیتا جیسے کہ اس آدمی کو جس کا مقصد فٹنس حاصل کرنا ہو۔ کیونکہ ایتھلیٹ کو پہلے ہی جسمانی طور پر فٹ خیال کیا جاتا ہے۔ صحت مند لوگوں کو شفا بخش ورزشوں کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ انکی ضروریات سے کہیں کم ہوگا۔ اسطرح میں کسی ایسے شخص کو بھی فٹنس پروگرام تجویز نہیں کرونگا جو بیمار یا زخمی ہوتا وقتیکہ وہ پوری طرح صحتیاب نہ ہو جائے۔

اگر آپ ایتھلیٹ نہیں ہیں اور مریض بھی نہیں تو آپ کو فٹنس پروگرام دیا جا سکتا ہے کیونکہ آپ کی ضرورتیں ان سے مختلف ہیں تو آپ کا پروگرام بھی ان سے مختلف ہونا چاہیے۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page