انڈ اور شہد

انڈا

انڈا دنیا میں ایک مقبول غذا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ توانائی بخش غذا ہے۔ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو جسم کی ساخت اور اس کے نشو ونما کیلئے ضروری ہے۔

غذائی اجزاء اور وٹامنز 

انڈے میں حسب ذیل غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ سوڈیم 58 ملی گرام لحمیات 12.8 گرام، حیاتین الف 140 ملی گرام، چکنائی 11.5 ملی گرام، نشاسته 0.7 گرام کیلشیم 54 ملی گرام، حیاتین ج 0.10 ملی گرام ، فاسفورس 20 ملی گرام ۔ طبی فوائد اور استعمال کے انڈا خون صالح پیدا کرتا اور جسم کی پرورش میں مدد دیتا ہے۔ سوداوی اور بلغمی مزاجوں کے بالکل موافق ہے۔ یہ دق وسل کے مریضوں ، قلت خون ،ضعف باہ اور اعضائے ریشہ اور اعصاب کی کمزوری کیلئے زود اثر ہے۔ قوت باہ اور دل و دماغ کی کمزوری دور کرنے کیلئے بے نظیر غذا ہے اگر اسے باقاعدہ استعمال کیا جائے تو بڑھاپے تک ضعف باہ کی شکایت نہیں ہوتی ۔ منی اور شہوت کو بڑھاتا ہے۔ بدن کو موٹا کرتا ہے۔ دودھ سے زیادہ طاقت بخش ہے۔ انڈے کے استعمال کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ انڈے کو پانی میں اتنی دیر تک ابالا جائے کہ اس کی سفیدی پک جائے اور زردی پکنے کے قریب پہنچ جائے یعنی پورے طور پر نہ پکے (نیم برشت) اس پر ذرا سا نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ چھڑک کر کھایا جائے یا پھر انڈے کو دودھ میں پھینٹ کر شہد سے میٹھا کر کے پینا مفید ہے۔ انڈوں کا زیادہ استعمال کرنے سے عارضہ قلب ہو سکتا ہے کیونکہ انڈوں کی زیادتی کولیسٹرول کو بڑھاتی ہے

شہد

شہد کا شمار قدرت کی عطا کردہ نعمتوں میں نعمت غیر مترقبہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کی شفائی اور حرت انگیز غذائی خوبیوں کو بیان کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ شہد بائیس سال تک خراب نہیں ہوتا اور نہ ہی اپنی خوبیاں بدلتا ہے۔ شہد ایسا سیال ہے جس میں خود کو تا دیر محفوظ رکھنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید نے شہد کی مکھی کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک سورہ اس کے نام سے نازل ہوئی اور اس کے کمالات کی تعریف فرمائی : فيه شفاء للناس آدمیوں کیلئے شہر میں شفاء ہے۔ (النحل)

برصغیر پاک و ہند میں ہزاروں برسوں سے شہد کو ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ قدیم زمانہ میں مصری بھی اسے کئی ادویات کی تیاری میں شامل کیا کرتے تھے جبکہ قدیم یونانی بھی اسکی خوبیوں سے آگاہ تھے اور ان کا تذکرہ کرتے رہتے تھے بابائے طب بقراط آج سے دو ہزار سال پہلے اپنے کئی مریضوں کو شہد استعمال کرنے کا مشورہ دیتے تھے اور خود بھی شہد کا استعمال کیا کرتے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہد دیگر غذاؤں کے ساتھ مل کر صحت بخش اور غذائیت بخش اثرات کا حامل بن جاتا ہے۔ ارسطو نے شہد کے بارے میں کہا ہے،شہد صحت کو بہتر بنا تا اور مر لمبی کرتا ہے۔

غذائی اجزاء اور وٹامنز

100 گرام شہد کا کیمیائی تجزیہ کچھ یوں ہے۔ رطوبت 20.0 فیصد، پروٹین 0.3 فیصد، معدنی اجزاء 0.2 فیصد، کاربوہائیڈریٹ 79.5 فیصد، غذائی صلاحیت 319 حرارے، فاسفورس 16 ملی گرام، آئرن 0.9 ملی گرام، کیلشیم 5 ملی گرام وٹامن سی 4 ملی گرام وٹامن بی کمپلیکس قلیل مقدار شفا بخش فوائد اور استعمال ) اکثر لوگ جسمانی طور ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے مختلف قسم کے کشتہ جات اور ٹانک تلاش کرتے پھرتے ہیں لیکن شہد سے بڑھ کر تھکاوٹ ، پژمردگی اور کمزوری کو دور کرنے والی چیز آج تک نہیں دیکھی گئی۔

شہد شکم اور آنتوں کی بیماریاں، قرحہ معدہ (السر) اور ورم معدہ میں بہت ہی کار آمد ہے۔ گلے سے لے کر پھیپھڑوں تک ہر قسم کی سوزش میں گرم پانی میں شہدا کسیر کا حکم رکھتا ہے۔ کھانسی اور گلے کی سوزش میں اگر چہ شہد کے غرارے بھی مفید ہیں مگر ایک کام کی چیز کو ضائع کرنے کے بجائے اسے گرم گرم اور گھونٹ گھونٹ پیا جائے تو نالیوں کے آخری سرے تک اثر انداز ہوتا ہے۔

دمہ کے مریضوں میں نالیوں کی گھٹن کو دور کرنے اور بلغم نکالنے کیلئے گرم پانی میں شہد سے بہتر کوئی دوا نہیں۔شہد خون میں قابل ذکر کر دار ادا کرتا ہے۔ اس کے اجزاء میں شامل فولاد، تانیا اور میگنیز خون کے سرخ ذرات بڑھاتے اور ان کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔

شہد آنکھوں کی متعدد بیماریوں کا علاج ہے۔ روزانہ شہد آنکھوں میں لگانے سے بینائی تیز ہوتی ہے۔ آنکھوں کی خارش، آنکھوں کا درد ، آشوب چشم ، سگرے اور کئی دوسری بیماریوں کا شافعی علاج ہے۔

شہد دل کیلئے مفید ترین دوا ہے۔ یہ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اور فوراہی جزو بدن بن جاتا ہے۔

شہد نیند نہ آنے کا عمدہ علاج ہے۔ ایک کپ پانی میں دو چمچے شہد ملا کر رات کو سوتے وقت پینے سے بچوں اور بڑوں کو گہری نیند آجاتی ہے۔ شہد کھانے سے منہ صحت مند رہتا ہے۔ روزانہ دانتوں اور مسوڑھوں پر شہد لگانے سے دانت صاف اور چمکدار رہتے ہیں۔ داتنوں کی بنیادوں پر سخت مادہ جمع نہیں ہوتا۔ دانت گرنا بند ہو جاتے ہیں۔ شہد جراثیم کش بھی ہے۔ اس لئے مسوڑھوں میں خورد بینی جراثیم پیدا نہیں ہوتے۔ ان میں خون کی گردش بہتر طور پر ہوتی ہے۔ شہد کھانے سے ناگوار سانس بھی نہیں آتا ۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page