آپ کی نبض کا ٹیسٹ

اب فٹ بن جانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

سب سے پہلے ہمیں پرتسلی کر لینی چاہیے کہ آپ کی مودہ حالت اس قابل ہے آپ کہ صحت کو متاثر کئے بغیر کسی فٹنس پروگرام پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ مزید رائے آپ کا معالج دے سکتا ہے۔ اگر آپ نے پچھلے ایک سال کے دوران اپنا طبی معائنہ کروایا ہے اور کسی بڑی بیماری کا کوئی اندیشہ نہیں تو کافی امکان ہے کہ آپ پروگرام کی ابتدا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کوئی درمیانی سی ورزش کے قابل نہ ہوتے تو آپ کے معالج نے آپ کو ضرور متنبہ کر دیا ہوتا۔ پھر بھی ایک بار اور مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

اور اگر کبھی آپ کو تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ، ہوائی اڈے کی کنوئیر بیٹ (وہ پٹہ جس پر سے گھوم کر سامان آپ کے پاس پہنچتا ہے ) سے کوئی بیگ اٹھا کر لاتے ہوئے یا ہلکی باغبانی کے دوران مندرجہ ذیل علامات میں سے کسی ایک سے بھی واسطہ پڑا ہو تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کیجئے اور جب تک وہ علامت برقرار رہے تو ہر قسم کے فلس پروگرام سے احتراز کریں تو بہتر ہے۔

سینے میں درد ۔
بے ہوشی ۔
ہاضمے کی خرابی مثلا قے ، اسہال وغیرہ۔ 
سانس لینے میں دقت ۔
فلو جیسی علامات ۔

یہ جاننے کے لئے کہ آپ کوئی درمیانی سی ورزش کے لئے موزوں ہیں یا نہیں، کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ آیا آپ دو میل تک چل سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس کو اتنی خصوصی تنبیہ مجھے جتنی کہ آپ کے معالج کی ہو سکتی ہے۔ اور آپ اسے فوراً ملنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونا چاہیے ۔

میرا مقصد آپ کو خوفزدہ کرنا نہیں۔ میں فقط یہ چاہتا ہوں کہ آپ مختاط رہیں۔ اگر آپ فٹنس کے کم ترین درجے پر ہیں تو کچھ کام ایسے ہیں جو بیک وقت کرنے سے پر ہیز کرنی چاہیے۔ ورنہ آپ کسی بیماری میں یقیناً مبتلا ہو جا ئیں گے ۔ مثلاً آپ اس حد تک بسیار خور ہوں کہ مزید سانس لینا بھی دوبھر ہو جائے تو مصیبت آپ سے زیادہ دور نہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ ساتھ گرم پانی سے غسل کر لیں یا پریٹ کی شدید خرابی کی کیفیت میں ورزش کرنا شروع کر دیں تو اپنی جان بھی لے سکتے ہیں۔یہ کہنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ اگر آپ کو دل کے دو میرے دورے کا احتمال ہے تو ورزش کے قریب بھی مت جائیے۔ چند اور صورتیں جن میں ورزش کی قطعی ممانعت ہے وہ ہیں۔

جسم کے کسی حصے میں سوزش۔
بخار
 پھیپھڑوں کے عوارض جیسے استقاء وغیرہ۔

البتہ ایتھلیٹ بخار یا نزلے کی حالت میں مقابلے میں حصے لے سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو ایسے نہیں کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں اگر درج ذیل کیفیات میں سے کوئی ایک بھی موجود ہو تو معالج کے مشورے کے بغیر آپ کوئی بھی تربیتی پروگرام شروع نہیں کر سکتے ۔ (۱) بلند فشار خون ۔ (ب) حد سے زیادہ تمباکو نوشی کی عادت ۔ ( ج ) خون میں چکناہٹ کی زیادتی ۔ ( د ) ورزش کی کم عادت۔ (و) کسی قریبی عزیز میں امراض دل کا ہونا۔(ه) شدید ذہنی پریشانی۔ (ی) موٹا پا۔ بی زبان میں مور پر اسے کہتے یں جب جسم کا 31096سے زائد چربی رمشتل اس کے لئے کسی تجربہ گاہ جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ آپ چربی کو شکتی ڈھلکتی شکل میں تہہ در تہہ موجود دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی یہ حالت ہے تو کوئی بھی سخت ورزش کرنے سے پہلے آپ کو طبی نگرانی میں اپنا وزن کم کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ وزن کم کرنے کے بعد فٹنس پروگرام شروع کرنے سے پہلے درمیانی رفتار سے چلنا شروع کردیں۔ خواہ آپ کو حال ہی میں معالج نے ورزش کرنے کی اجازت دی ہو، پھر بھی پروگرام شروع کرنے سے پہلے ایک ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ معالج اکثر و بیشتر آپ کا معائنہ آرام کی حالت میں کرتا ہے۔ جس میں ایسے آلات استعمال نہیں ہوتے ، جو ورزش کا فوری اثر ظاہر کرتے ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی آپ ورزش شروع کرتے ہیں تو آپ کا جسم کمزور قوت برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

مذکورہ بالا ٹیسٹ آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو آرام کی مختلف حالتوں اور ہلکی ورزش میں نبض کی گنتی کرنا ہے۔ ورزش آپ کو اچھی لگنی چاہیے اور اس میں یا نیٹ کے دوران آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں محسوس ہونی چاہیے۔ یہ ٹیسٹ سیڑھیاں چڑھنے سے مشکل نہیں۔ اس میں آپ کو بیٹھے، کھڑے ہو کر اور ایک منٹ میں سیڑھیاں چڑھنے اترنے کے بعد اپنی نبض کی رفتار کو نوٹ کرنا ہے۔ میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس سے یہ اندازہ کس طرح ہوگا کہ آپ ورزش کو مسیح طرح سے برداشت کر رہے ہیں۔ ان نتائج سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آپ کو میری ہدایات کے مطابق جسمانی حرکت بڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔

اس ٹیسٹ کے لئے کلائی کی گھڑی یا ایسا کلاک جس میں سیکنڈ کی سوئی بھی ہو، درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ سیڑھی کے ایک قدم کی پیمائش کے لئے ایک مسطر کی بھی ضرورت پڑے گی۔

Leave a Comment

You cannot copy content of this page